• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن، رمضان کا استقبال: شہر روشنیوں سے منور، میئر صادق خان کی اتحاد کی اپیل

Updated: February 14, 2026, 6:24 PM IST | London

لندن کے ویسٹ اینڈ میں میئر صادق خان نے رمضان المبارک کے موقع پر خصوصی لائٹس کا افتتاح کیا، جو مسلسل چوتھے سال وسطی لندن میں مقدس مہینے کی خوشیاں منانے کے لیے سجائی گئی ہیں۔ ۳۰؍ ہزار سے زائد ایل ای ڈی قمقمے اسلامی ہندسی ڈیزائن سے مزین ہیں اور جلد ہی ’’رمضان مبارک‘‘ سے ’’ہیپی عید‘‘ میں تبدیل ہو جائیں گے۔ تقریب میں اتحاد، ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کا پیغام نمایاں رہا۔

London Mayor Sadiq Khan. Photo: INN
لندن کے مئیر صادق خان۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کا ویسٹ اینڈ اس ہفتے روحانی اور ثقافتی رنگوں سے جگمگا اٹھا، جب میئر صادق خان نے جمعہ کی شام رمضان المبارک کی مناسبت سے خصوصی لائٹس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ خوبصورت ڈسپلے مسلسل چوتھے سال وسطی لندن میں مسلمانوں کے مقدس مہینے کو خراجِ تحسین پیش کر رہا ہے اور شہر کی کثیرالثقافتی شناخت کو نمایاں کرتا ہے۔ ۳۰؍ ہزار سے زائد ایل ای ڈی لائٹس، جو اسلامی ہندسی نمونوں سے متاثر ڈیزائن میں ترتیب دی گئی ہیں، اب لیسٹر اسکوائر اور اس سے ملحقہ گلیوں میں روشن ہیں۔ یہ لائٹس ابتدا میں ’’رمضان مبارک‘‘ کا پیغام دیتی ہیں اور ۱۸؍ مارچ کو کو عیدالفطر کی آمد کے موقع پر’’ہیپی عید‘‘ میں تبدیل ہو جائیں گی۔ اس دلکش اقدام کی مالی اعانت اور انتظام عزیز فاؤنڈیشن نے کیا ہے، جس نے گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی اس روایت کو برقرار رکھا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Inquilab - انقلاب (@theinquilab.in)

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر صادق خان نے موجودہ عالمی اور مقامی سیاسی حالات کے تناظر میں اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں کشیدگی اور نفرت کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، لندن کو باہمی احترام اور شمولیت کی مثال پیش کرنی چاہیے۔ ان کے الفاظ میں، ’’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں، برطانیہ کی اصل روح کو اجاگر کریں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کا مظاہرہ کریں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان کا مہینہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے باہمی خیرسگالی اور تعاون کا موقع ہے۔ انہوں نے مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں، دیگر مذاہب کے ماننے والوں اور ان افراد سے بھی جو کسی مذہب سے وابستہ نہیں، اپیل کی کہ وہ اس مقدس مہینے میں ایک دوسرے کے قریب آئیں اور مشترکہ اقدار کو فروغ دیں۔
تقریب کے دوران میئر نے عالمی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے حاضرین کو یاد دلایا کہ رمضان ہمدردی، دعا اور خیرات کا مہینہ ہے۔ انہوں نے سوڈان، غزہ اور یوکرین جیسے خطوں میں جاری انسانی بحرانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لندن کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں کے متاثرین کو اپنی دعاؤں اور امدادی سرگرمیوں میں یاد رکھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ معاشروں میں تقسیم، نفرت اور خوف پھیلانے والی سوچ کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑا ہونا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسانیت، رواداری اور انصاف کو فروغ دیا جائے۔ چاہے کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم، سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا ثبوت دیں کہ لندن نفرت کے خلاف ایک مضبوط اور مثبت آواز ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہر کی قیادت ہر اس نظریے کی مخالفت کرے گی جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان: الاقصیٰ مسجد تک فلسطینی مسلمانوں کی رسائی محدود کرنے کا اسرائیلی منصوبہ

بعد ازاں میئر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ پکاڈیلی سرکس میں رمضان لائٹس کو روشن کرنا ان کے لیے باعثِ مسرت تھا۔ انہوں نے لندن کو امید، اتحاد اور شمولیت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ شہر ہے جہاں تنوع کو طاقت سمجھا جاتا ہے اور ہر فرد کو عزت اور قبولیت حاصل ہے۔ ویسٹ اینڈ میں سجائی گئی یہ روشنیاں نہ صرف رمضان کی روح کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہیں کہ لندن اپنی ثقافتی اور مذہبی رنگا رنگی پر فخر کرتا ہے۔ ہر سال ہزاروں مقامی اور غیر ملکی سیاح اس نظارے کو دیکھنے آتے ہیں، جس سے شہر کی مثبت شناخت مزید مستحکم ہوتی ہے۔ اس طرح رمضان لائٹس کا یہ سلسلہ محض ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ باہمی احترام، شمولیت اور اجتماعی ہم آہنگی کا عملی اظہار بن چکا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK