Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی قرض ۴۰؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وینس نے کہا: بیسنٹ کے پاس خفیہ منصوبہ ہے

Updated: August 21, 2026, 7:00 PM IST | New York

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کا قومی قرض بہت زیادہ ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے پاس صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت سے ایک انتہائی محتاط اور خفیہ منصوبہ ہے، جس کے تحت معیشت کی شرحِ نمو کو حکومت کے قرض میں اضافے سے زیادہ تیز کرکے قرضوں کے بوجھ کو کم کیا جائے گا۔

J D Vance.Photo:INN
جے ڈی وینس۔ تصویر:آئی این این

امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کا قومی قرض بہت زیادہ  ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے پاس صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت سے ایک  انتہائی محتاط اور خفیہ منصوبہ  ہے، جس کے تحت معیشت کی شرحِ نمو کو حکومت کے قرض میں اضافے سے زیادہ تیز کرکے قرضوں کے بوجھ کو کم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:ڈارون میں ناممکن کو ممکن بنانے کے بعد بنگلہ دیش کی توجہ سیریز جیتنے پر مرکوز

وینس نے نیوز میکس کو دیے جانے والے  ایک انٹرویو میں کہا’’یقیناً ان کے پاس ایک انتہائی محتاط منصوبہ ہے، جسے امریکہ کے صدر کی حمایت حاصل ہے، تاکہ امریکہ اس مقام تک پہنچ سکے جہاں ہماری معیشت ہمارے قرض سے زیادہ تیزی سے ترقی کرے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔  وینس نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار بائیڈن انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت ایک  قرض کا بم چھوڑ کر گئی  جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس قرض کے مقابلے میں معاشی ترقی کی رفتار بہتر بنانے کی حکمت عملی موجود ہے۔
بیسنٹ نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ۴۰؍ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے سے معیشت کو ترقی دے کر نکل سکتا ہے۔انہوں نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ ۴۰؍ ٹریلین ڈالرس  کی تعداد میں کوئی جادو نہیں ہے، اور ہم ترقی کے ذریعے اس سے نکل سکتے ہیں۔  انہوں نے وفاقی بجٹ خسارے اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں خسارے کی شرح سے متعلق  بہت سی غلط معلومات  کی بھی تردید کرنے کی کوشش کی۔محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق  امریکی قومی قرض رواں ہفتے ۴۰؍ ٹریلین ڈالرس کی حد عبور کرگیا جو ایک دہائی قبل تقریباً ۲۰؍ ٹریلین ڈالر کے مقابلے میں دُگنا ہے۔۲۰۲۶ء کے آغاز میں امریکی قرض تقریباً ۴ء۳۸؍ ٹریلین ڈالرس تھا  جو ۱۸؍ اگست تک بڑھ کر تقریباً ۱ء۴۰؍ ٹریلین ڈالر ہوگیا۔ قرض میں اس اضافے نے واشنگٹن میں حکومت کے قرض لینے کی رفتار، بڑھتے ہوئے سود کے اخراجات اور وفاقی مالیات کی طویل مدتی پائیداری سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ کانگریشنل بجٹ آفس نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکی قرض ۲۰۳۶ء تک تقریباً ۶۴؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امیزون ایم جی ایم اسٹوڈیوز نے فلم ’’وائب‘‘ کا نیا ٹیزر پوسٹر جاری کیا

بیسنٹ نے حالیہ اضافے کے ایک حصے کی وجہ فروری میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ٹیرف کی رقم کی عارضی واپسی کو قرار دیا جس میں ٹرمپ کے ہنگامی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر ٹیرف کو  اسی سطح  پر برقرار رکھیں گے اور پیش گوئی کی کہ ۲۰۲۶ء میں ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی  تقریباً ۲۰۲۵ء کے برابر  ہوگی۔ بیسنٹ نے بعد میں وہائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکشن ۳۰۱؍ کے ٹیرف کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ ہم گزشتہ سال کی ٹیرف آمدنی کی اسی سطح یا اس سے بھی زیادہ پر واپس آجائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK