پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی معائنے کیلئے اسپتال منتقل کئے جانے کے چند گھنٹوں بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ان کی صحت اور جیل کے حالات سے متعلق خدشات کے پیش نظر اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 7:01 PM IST | Islamabad
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی معائنے کیلئے اسپتال منتقل کئے جانے کے چند گھنٹوں بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ان کی صحت اور جیل کے حالات سے متعلق خدشات کے پیش نظر اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو جمعہ کو اسلام آباد کے ایک اسپتال کے مختصر دورے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ بات وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتائی۔ عمران خان کو ملک کی سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے طبی معائنے کیلئےاسپتال لے جایا گیا تھا۔ منگل کو عدالت نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ عمران خان کو۴۸؍ گھنٹوں کے اندر اسپتال منتقل کیا جائے۔ عدالتی حکم کے مطابق انہیں ۱۶؍ ستمبر تک اسپتال میں رہنا تھا، تاہم جمعہ ہی کو انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کی یہ ہدایت عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کے اہل خانہ کے دیرینہ مطالبے کے بعد سامنے آئی تھی۔ وہ طویل عرصے سے عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کے نامناسب حالاتِ قید پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل سے اسلام آباد اسپتال منتقل کردیا گیا
عمران خان کے بیٹے قاسم نے فروری میں کہا تھا کہ خاندان کو اطلاع دی گئی ہے کہ سابق وزیر اعظم کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی ختم ہوچکی ہے اور رپورٹس کے مطابق اس آنکھ کی صرف۱۵؍فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو نجی طبی مرکز کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی ’’سکیورٹی کی صورت حال‘‘ تھی۔
۷۳؍سالہ سابق کرکٹر سے سیاستداں بننے والے عمران خان کو اگست۲۰۲۳ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور ستمبر ۲۰۲۳ءسے وہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ انہیں متعدد فوجداری مقدمات کا سامنا ہے، جن میں زیادہ تر مبینہ بدعنوانی سے متعلق ہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم عدالت میں پیش کی گئی ایک میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد آیا، جس میں عمران خان کی بے چینی اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے ان کے اہل خانہ سے باقاعدگی سے ملاقات کی سفارش کی گئی تھی۔ عدالت نے عمران خان کے ذاتی معالج کو بھی سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی اجازت دی۔ تاہم عدالت نے ان کے اہل خانہ اور وکلا کو ان کی طبی رپورٹ عوام کے سامنے لانے سے روک دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ہند رجب کے قتل کی تحقیق کو اس کی دادی نے مسترد کردیا
حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ کے حکم کی مخالفت کی۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ حکومت کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا اور عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان نے کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد۱۹۹۶ء میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی اور اگست۲۰۱۸ء سے اپریل۲۰۲۲ء تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ پاکستانی فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے بعد ان کی حکومت ختم ہوگئی۔ جنوری۲۰۲۵ء میں ایک عدالت نے بدعنوانی کے مقدمے میں عمران خان کو۱۴؍ سال قید اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ہند و پاک کے قومی ترانے گانے کیلئے بنگالی، اردو سیکھی: برطانوی گلوکارہ لارا رائٹ
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دسمبر میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق عمران خان کی اہل خانہ اور قانونی مشیروں تک رسائی فوری طور پر بحال کریں۔ یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد کی جانب سے پاکستانی حکومت سے عمران خان کی ’’غیر انسانی اور غیر باوقار حراستی حالت‘‘ سے متعلق رپورٹس پر فوری اقدامات کرنے کی اپیل کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا تھا۔ خصوصی نمائندے نے خبردار کیا تھا کہ عمران خان کو جن حالات میں رکھنے کی اطلاعات ہیں، وہ ’’تشدد کے زمرے میں آسکتے ہیں ‘‘۔ دنیا بھر سے عمران خان کے دوستوں، جن میں سابق ہندوستانی کرکٹرز بھی شامل ہیں، نے پاکستانی حکام سے ان کے ساتھ وقار اور احترام کے ساتھ سلوک کرنے کی اپیل کی ہے۔