• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آشا بھوسلے نے ایک وقت عدنان سمیع کی پزیرائی کی تھی

Updated: September 08, 2026, 4:09 PM IST | Mumbai

لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے آج زندہ ہوتیں تو ۹۳؍ برس کی ہو جاتیں۔ وہ رواں سال اپریل میں انتقال کر گئی تھیں، تاہم اپنی لازوال موسیقی، یادگار گیتوں اور ان فنکاروں کی ایک طویل فہرست چھوڑ گئیں جن کے کریئر کو انہوں نے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہی فنکاروں میں معروف گلوکار و موسیقار عدنان سمیع بھی شامل ہیں۔

Asha Bhosle and Adnan Sami. Picture: INN
آشا بھوسلے اور عدنان سمیع۔ تصویر: آئی این این

لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے آج زندہ ہوتیں تو ۹۳؍ برس کی ہو جاتیں۔ وہ رواں سال اپریل میں انتقال کر گئی تھیں، تاہم اپنی لازوال موسیقی، یادگار گیتوں اور ان فنکاروں کی ایک طویل فہرست چھوڑ گئیں جن کے کریئر کو انہوں نے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہی فنکاروں میں معروف گلوکار و موسیقار عدنان سمیع  بھی شامل ہیں، جن کے ہندوستان آنے اور یہاں موسیقی کی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کے سفر میں آشا بھوسلے کا اہم کردار رہا۔
عدنان سمیع نے ایک خصوصی انٹرویو میں آشا بھوسلے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی کی بہت سی کامیابیوں کا کریڈٹ انہیں دیتے ہیں۔ سمیع کے مطابق آشا بھوسلے ہی نے انہیں ہندوستان آنے پر آمادہ کیا تھا اور ان کی موسیقی کو ہندوستانی سامعین تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ عدنان سمیع نے بتایا کہ ۱۹۹۷ء میں وہ لندن میں آشا بھوسلے کے ساتھ اپنے مشہور البم  ’’کبھی تو نظر ملاؤ‘‘  کی ریکارڈنگ کر رہے تھے۔ اس دوران آشا جی نے ان سے پوچھا کہ وہ اس البم کو کہاں ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چونکہ سمیع اس وقت لندن میں مقیم تھے، اس لیے انہوں نے لندن کا نام لیا۔

یہ بھی پڑھئے: آشا بھوسلے نے کئی لازوال گیت دیئے ہیں

آشا بھوسلے کو یہ جواب پسند نہیں آیا۔ انہوں نے سمیع کو مشورہ دیا کہ البم کو ممبئی  سے ریلیز کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق ممبئی ہندی موسیقی کا عالمی مرکز ہے۔ آشا بھوسلے کا کہنا تھا کہ اگر کوئی البم ممبئی میں ہٹ ہوجائے تو اسے پوری دنیا میں کامیابی مل سکتی ہے اور ممبئی سے بہتر تقسیم کا پلیٹ فارم کوئی نہیں۔ جب عدنان سمیع نے کہا کہ وہ ممبئی میں کسی کو نہیں جانتے تو آشا بھوسلے نے حیرت کا اظہار کیا۔ سمیع کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ ان پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ البم جتنا ان کا ہے، اتنا ہی آشا بھوسلے کا بھی ہے۔ انہوں نے سمیع کے لیے ایک البم پروڈیوس کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ سمیع نے بتایا کہ وہ ابتدا میں صرف ایک ماہ کے کپڑے لے کر ہندوستان آئے تھے، لیکن حالات ایسے بنے کہ وہ پھر ہمیشہ کے لیے ہندوستان میں ہی رہ گئے۔
آشا بھوسلے اور عدنان سمیع کا البم  ’’کبھی تو نظر ملاؤ‘‘  نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مقبول ہوا۔ اس البم نے سمیع کو ۲۰۰۰ء کی دہائی کے آغاز میں پاپ موسیقی کے نمایاں فنکاروں میں شامل کردیا۔ بعد میں عدنان سمیع نے ۲۰۰۵ء کی فلم  ’’لکی: نو ٹائم فار لو‘‘  کے لیے آشا بھوسلے کی آواز میں گانا ’’لکی لپس‘‘  بھی کمپوز کیا۔ دونوں فنکاروں نے گزشتہ برس  ’’آؤ نا‘‘  کے ذریعے ایک بار پھر ساتھ کام کیا۔

یہ بھی پڑھئے: سُکیش کے مکوکا معاملے میں جیکلین فرنانڈیز کو ملزم بنانے کا مطالبہ

سمیع نے بتایا کہ ہندوستان آنے کے بعد آشا بھوسلے نے ان کی ذاتی طور پر بھی مدد کی اور انہیں اپنے آنجہانی شوہر اور عظیم موسیقار  آر ڈی برمن  کے ممبئی میں واقع گھر میں بھی ٹھہرایا۔ عدنان سمیع کا آشا بھوسلے اور آر ڈی برمن سے تعلق دراصل ان کے بچپن سے تھا۔ جب سمیع صرف ۱۰؍برس کے تھے تو لندن میں ایک کنسرٹ کے دوران انہوں نے اپنی تخلیق کردہ دھن پیش کی، جس نے آر ڈی برمن اور آشا بھوسلے دونوں کو متاثر کیا۔ آر ڈی برمن نے ابتدا میں یہ جاننا چاہا کہ کیا واقعی یہ دھن ۱۰؍ سالہ عدنان سمیع نے خود بنائی ہے۔ سمیع نے اپنا پورٹیبل کی بورڈ بجا کر انہیں یقین دلایا کہ یہ ان کی اپنی تخلیق ہے۔ اس موقع پر آشا بھوسلے اور آر ڈی برمن دونوں نے سمیع کے مستقبل میں ایک بڑے موسیقار بننے کی صلاحیت کو پہچان لیا تھا۔ تاہم آر ڈی برمن ۱۹۹۴ء میں انتقال کر گئے، یعنی اس وقت جب عدنان سمیع کا بھارتی موسیقی کی دنیا میں بڑا کریئر شروع بھی نہیں ہوا تھا۔ سمیع کو آج بھی اس بات کا افسوس ہے کہ آر ڈی برمن ان کی کامیابی اور ترقی دیکھنے کے لیے موجود نہیں تھے۔
 عدنان سمیع نے انٹرویو میں آشا بھوسلے کی ایک بات بھی یاد کی۔ ان کے مطابق آشا جی نے ایک مرتبہ ان سے کہا تھا’’ اگر پنچم آج ہوتے تو تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔‘‘ سمیع نے کہا کہ یہ جملہ آج بھی ان کے دل میں محفوظ ہے، کیونکہ آر ڈی برمن بچپن ہی سے ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔عدنان سمیع نے بتایا کہ ان کی آر ڈی برمن کے موسیقی سے وابستگی بہت کم عمری میں شروع ہوگئی تھی۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں جب وہ پرتگال میں رہتے تھے تو فلموں میں موسیقار کے طور پر ’’برمن‘‘ کا نام دیکھتے ہی ان کی دلچسپی بڑھ جاتی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK