• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں منی پور کے معروف گلوکار کا مبینہ ہجومی تشدد کے بعد انتقال، ۷؍ گرفتار

Updated: September 08, 2026, 7:01 PM IST | New Delhi

دہلی میں منی پور کے معروف گلوکار چونگتھام وکرم سنگھ مبینہ ہجومی حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد علاج کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ واقعے میں پولیس نے سات افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ اہلِ خانہ اور شمال مشرقی ہند کے نمائندوں نے غیر جانب دارانہ تحقیقات اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Chongtham Vikram Singh. Photo: X
چونگتھام وکرم سنگھ۔ تصویر: ایکس

دہلی میں رہ رہے منی پور کے گلوکارکا ہجومی تشددکے بعد علاج کے دوران انتقال ہوگیا۔ ان کے بیٹے نے قریب کے ڈھابے پر کام کرنے والوں پر الزام عائد کیا ہے انہوں نے مل کر ایک تنازع کے چلتے ان کے والد پر حملہ کیا جس کےبعد ان کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان قریب کے ڈھابوں سے کھانا پیک کرنے اور ڈیلیوری کا کام کرتے ہیں اور ان کی عمریں ۱۵؍ سے ۳۶؍ سال کے درمیان ہیں۔ منی پور کے سابق وزیرِ اعلیٰ این برین سنگھ نے اس واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امراوتی میں ۲۴؍گھنٹے کے اندر شیرنی کے حملے میں ۲؍افراد ہلاک

دہلی کے آشرم علاقے میں رہنے والے منی پور کے معروف گلوکار چونگتھام وکرم سنگھ اتوار کی رات ایک گروہ کی جانب سے کئے گئے مبینہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے، جن کی پیرکو علاج کے دوران موت ہو گئی۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں بی این ایس کی ماب لنچنگ (ہجومی تشدد) سے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرتے ہوئے ۷؍ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ ایک ۱۵؍ سالہ نابالغ کوبھی تحویل میں لیا ہے۔ مقتول کے بیٹے یائفابا (Yaiphaba) نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ ان کے والد نے اسپتال لے جاتے وقت راستے میں بتایا تھا کہ پاس کے ایک ڈھابے کے لوگوں نے ان پر حملہ کیا ہے۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکرم سنگھ نے کچھ دن پہلے ڈھابے کے زیادہ شور شرابے کی شکایت کی تھی جس پر ان لوگوں نے انہیں دھمکیاں بھی دی تھیں۔ امپھال کے رہنے والے وکرم سنگھ ایک گٹارسٹ اور میوزک ٹیچر تھے، جو ماضی میں کئی راک بینڈز کا حصہ بھی رہ چکے تھے، لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے وہ کوئی باقاعدہ کام نہیں کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے۱۰؍ اسکولوں کو مثالی بنانے کا منصوبہ

منی پور کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر این برین سنگھ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب جبکہ واقعے سے متعلق ثبوت سامنے آ رہے ہیں، میں دہلی پولیس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور ملوث افراد کو جلد از جلد سخت سے سخت سزا دلائے۔ دہلی پولیس نے بی این ایس کی دفعہ ۱۰۳(۲) (نسل، ذات یا برادری کی بنیاد پر ہجوم کے ذریعے قتل) اور دفعہ ۳ (۵) (مشترکہ مقصد کے تحت کیا گیا جرم) کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے اور موت کی وجہ بننے والے تمام حالات کی جانچ کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پولیس نے گرفتار کئے گئے افراد کی شناخت بھرت کمار، پرمود، رمضان خان، دیپانشو، موہن وشوکرما، وجے اور منو کے طور پر کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پونے: ایم پی ایس سی کی مبینہ بدعنوانی کیخلاف زبردست احتجاج

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے بیٹے یائفابا نے بتایا کہ اتوار کی رات تقریباً ساڑھے ۱۱؍ بجے وہ اور ان کی والدہ گھر پر موجود تھے، تبھی انہیں باہر سے شور اور وکرم کی چیخیں سنائی دیں۔ جب بیٹے نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ چار سے پانچ افراد ان کے والد کو لاتوں اور گھونسوں سے بے دردی سے پیٹ رہے تھے۔ جب اس نے شور مچایا اور انہیں روکنے کی کوشش کی تو حملہ آور وہاں سے بھاگ نکلے۔ بیٹے نے بتایا کہ اس نے کچھ حملہ آوروں کے چہرے دیکھ لئے تھے۔ یائفابا اور ان کی والدہ ایک ٹیکسی کے ذریعے وکرم سنگھ کو فوراً ایک نجی اسپتال لے گئے، جہاں پیر کی صبح ان کی موت ہو گئی۔ اہل خانہ کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ایمز بھیج دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: احتجاج کا ۱۱؍واں: طبیعت بگڑنے کے باوجود منوج جرنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال جاری

نارتھ ایسٹ میڈیا فورم نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس حملے کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کا کہنا ہے کہ اگرچہ حملے کی وجہ کا پتا لگایا جا رہا ہے، لیکن نسلی تعصب یا شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کے امکان کو بھی غور سے جانچنا چاہئے۔ فورم نے شمال مشرقی ہند (نارتھ ایسٹ) کے لوگوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، دھمکیوں اور امتیازی سلوک کے واقعات پربھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہلی پولیس سے اپیل کی کہ وہ شہر میں نارتھ ایسٹ کے لوگوں کی عزت اور خوف کے بغیر زندگی بسر کرنے کی ضمانت کو یقینی بنائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK