شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیاگیا، کئی شہروں میں حسب روایت تعزیے نکالے گئے۔ جگہ جگہ سبیلیں لگائی گئیں۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 9:22 AM IST | New Delhi
شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیاگیا، کئی شہروں میں حسب روایت تعزیے نکالے گئے۔ جگہ جگہ سبیلیں لگائی گئیں۔
ملک بھر میں جمعہ کو یوم عاشورہ منایا گیا۔ نواسہ رسولؐحضرت امام حسین ؓاور ان کے جانثار ساتھیوں کی لازوال قربانیوں کی یاد میں جمعہ کو ملک بھر میں ماتمی و تعزیہ جلوس نکالے گئے۔اس دوران جگہ جگہ سبیلیں لگائی گئیں اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق وادیِ کشمیر بالخصوص سرینگر میں یومِ عاشورہ عقیدت و احترام اور روایتی ماتمی ماحول میں منایا گیا۔ سرینگر کے علاقے زادی بل میں نکالے گئے مرکزی ذوالجناح جلوس میں ہزاروں کی تعداد میں عزاداروں نے شرکت کی اور نوحہ خوانی و سینہ زنی کر کے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے خود زادی بل پہنچ کر جلوس میں شرکت کی اور عزاداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نےجلوس کے دوران حضرت امام حسینؑ اور ان کے رفقاء کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے امام عالی مقام کی قربانی کو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ قرار دیتے ہوئے کہا:’’حضرت امام حسینؑ نے امن، انصاف، محبت اور ہمدردی کے لیے جو عظیم ترین قربانی دی، وہ پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی رہنما اصول ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر اور وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس دوران خود اپنے ہاتھوں سے عزاداروں میں تبرک اور پانی بھی تقسیم کیا۔
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں یومِ عاشورہ کے موقع پر روایتی عقیدت و احترام اور ماتمی ماحول میں جلوس برآمد کیے گئے۔ ان ماتمی جلوسوں کی خاص بات یہ تھی کہ کربلا کے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، شرکاء نے مختلف ہم عصر عالمی اور قومی واقعات پر مبنی پوسٹرز اور پیغامات بھی اٹھا رکھے تھے، جو مرکزِ نگاہ بنے رہے۔بھوپال کے پرانے شہر کے مختلف علاقوں بشمول فتح گڑھ، امامی گیٹ، حمیدیہ روڈ، کروند اور دیگر مقامات سے تعزیے، علم، براق اور سواریوں کے ساتھ ماتمی جلوس نکالے گئے۔
اترپردیش میں لکھنؤ، آگرہ ، کوشامبی سمیت مختلف شہروں میں یوم عاشورہ کے موقع پر ماتمی جلوس نکالے گئے ۔ تمام ہی مقامات پرپرامن ماحول میں جلوس گزرے ۔ جن میں ہزاروں عزادارشریک ہوئے۔ تادم تحریر موصولہ رپورٹ کے مطابق کوشامبی ضلع میں محرم کا تاریخی جلوس جمعہ کو ڈرون کیمروں اور سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان پرامن طور پر ختم ہو گیا۔ ضلع بھر میں تقریباً۴۰۰؍ مقامات پر رکھے گئے تعزیوں کو روایتی جلوس کی شکل میں نکال کر طے شدہ کربلاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ جونپور ضلع میں جمعہ کو یوم عاشورہ غمگین ماحول میں منایا گیا۔ عزاداروں نے اپنے اپنے عزا خانوں میں رکھے تعزیوں کو مقامی کربلا بیگم گنج میں سپرد خاک کر دیا۔اس دوران شہر میں سکیورٹی انتظامات چاک و چوبند نظر آئے۔ خاص طور پر بیگم گنج کے صدر امام باڑے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات رہی۔ نویں محرم کوبلوا گھاٹ، کلو امام باڑہ، پان دریبا، پرانی بازار، پوستی خانہ، مفتی محلہ، چھوٹی لائن امام باڑہ سمیت دیگر مقامات پر عزاداروں نے رات بھر نوحہ ماتم کر کے کربلا کے شہیدوں کو نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ محرم کی نویں پر پریاگ راج کے بڑا تعزیہ واقع امام باڑوں میں عقیدت مندوں کی بھاری بھیڑ امڈ پڑی تھی۔