Updated: August 13, 2026, 10:14 PM IST
| Washington
’آرٹسٹس فار سیزفائر‘ کے حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جنگ بندی، فلسطینیوں کی اموات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ بیان میں ”ایک مستقل بندی، اہم امداد کی بلا تعطل فراہمی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی دہائیوں سے جاری نفی کے خاتمے“ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے بارے میں فنکاروں نے کہا ہے کہ وہاں کے فلسطینیوں کو ”ہر روز اسرائیلی آباد کاروں اور اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے دہشت زدہ اور قتل کیا جا رہا ہے۔“
یاویر باردیم اور مارک رُفالو۔ تصویر: ایکس
’آرٹسٹس فار سیزفائر‘ (Artists4Ceasefire) نے غزہ میں فلسطینی کے خلاف جاری اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کی مذمت میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس میں انہوں نے زور دیا کہ ”غزہ میں کوئی بندی نہیں ہے۔“ اس بیان میں معروف ہسپانوی اداکار ہاویئربارڈیم (Javier Bardem)، ہالی ووڈ کے مشہور اداکار مارک رفالو (Mark Ruffalo) اور اینی لینکس (Annie Lennox) جیسی نامور شخصیات نے محصور فلسطینی علاقے میں مستقل جنگ بندی اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی امداد کی فراہمی کے مطالبات کا اعادہ کیا ہے۔ اس بیان سے ملیسا باریرا، ہنہ اینبائنڈر، الانا گلیزر، پوپی لیو، سنسیہ نکسن، سوزن سارنڈن اور مارگن اسپیکٹر جیسی معروف شخصیات کا نام بھی منسلک کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا فلسطین کے قیام کیلئے ’پُرعزم‘ حمایت جاری رکھنے کا اعلان
’آرٹسٹس فار سیزفائر‘ کی جانب سے یہ بیان اکتوبر ۲۰۲۵ء میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے نفاذ کے تقریباً ۱۰ ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، اسرائیل نے تب سے غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور حماس پر دوبارہ مسلح ہونے، جنگجوؤں کی بھرتی کرنے اور سرنگوں کو دوبارہ تعمیر کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ انسٹاگرام پر شیئر کئے گئے ایک بیان میں فنکاروں کے گروپ نے کہا کہ ”غزہ میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔ ہر روز، فلسطینی خوفناک مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔“ اس میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے ۱۲۰۰ سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور ۴۰۰۰ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
یونیسف (UNICEF) نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے ۳۰۰ دنوں کے دوران غزہ میں کم از کم ۳۰۰ بچوں کے شہید ہونے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں جبکہ سیکڑوں دیگر بچے زخمی ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے مزید بتایا کہ ہزاروں فلسطینی خاندان اب بھی غزہ پٹی کے تقریباً ایک تہائی حصے میں محصور ہیں اور مسلسل غذائی قلت، بیماریوں، ناپاک پانی اور تباہ شدہ صفائی کے نظام کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا کام شروع
’آرٹسٹس فار سیزفائر‘ کے بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے کو فراموش نہیں کیا گیا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے بارے میں فنکاروں نے کہا ہے کہ وہاں کے فلسطینیوں کو ”ہر روز اسرائیلی آباد کاروں اور اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے دہشت زدہ اور قتل کیا جا رہا ہے۔“ بیان میں اسرائیلی حکومت کو فلسطینیوں کی زمین پر انہی کی ”نسلی صفائی“ (ethnic cleansing) جاری رکھنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
’آرٹسٹس فار سیزفائر‘ کے حالیہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ جنگ بندی، فلسطینیوں کی اموات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ بیان میں ”ایک مستقل بندی، اہم امداد کی بلا تعطل فراہمی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی دہائیوں سے جاری نفی کے خاتمے“ کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دیرپا امن کیلئے ضروری ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی دونوں ”آزادی، انصاف اور مساوات کے ساتھ“ رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ رسمی طرز عمل سے آگے بڑھے: فلسطینی سفیر
’آرٹسٹس فار سیزفائر‘ کو اس سے قبل بھی بیلی ایلش، کیٹ بلانشٹ، ہواکوئن فینکس اور اریانا گرانڈے جیسی فنکار شخصیات کی حمایت حاصل رہی ہے۔ گروپ کا یہ بیان مداخلت ۶ اگست کو متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، ترکی، پاکستان اور انڈونیشیا کی جانب سے غزہ میں شہریوں کی مسلسل ہلاکتوں کی مذمت میں جاری کئے گئے مشترکہ بیان کے چند دنوں بعد جاری کیا گیا ہے۔