Updated: August 13, 2026, 10:15 PM IST
| Jerusalem
مغربی کنارے کے قصرہ گاؤں میں اسرائیلی فوج نے۱۶؍ فلسطینی گھر ضبط کر کے انہیں فوجی چوکیوں میں تبدیل کر دیا، فوج نابلس کے جنوب میں واقع اس قصبے میں اپنی فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اورگاؤں کی کونسل کو مطلع کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی اتوار کی صبح تک جاری رہے گی۔
فلسطین کے مغربی کنارے کےقصرہ گاؤں کی کونسل کے سربراہ نے خبر رساں ادارے انادولو کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں قصرہ اور اس کے گرد و نواح میں۱۶؍ فلسطینی گھر ضبط کر کے انہیں فوجی چوکیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔قصرہ گاؤں کی کونسل کے سربراہ عبدالعظیم الواڈی نے انادولو کو بتایا کہ فوج نابلس کے جنوب میں واقع اس قصبے میں اپنی فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور کونسل کو مطلع کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی اتوار کی صبح تک جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی بڑی نفری، جس میں پیدل فوج، فوجی گاڑیاں اور بلڈوزر شامل تھے، قصرہ میں داخل ہوئی اور پورے قصبے اور اس کے مضافات میں تعینات ہو گئی۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا فلسطین کے قیام کیلئے ’پُرعزم‘ حمایت جاری رکھنے کا اعلان
بعد ازاں الوادی نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے کونسل کو بتایا کہ وہ علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان قصبے کے قریب غیر قانونی آبادکارں کی طرف سے قائم کردہ ایک غیر قانونی چوکی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تین فلسطینی خاندان، جن میں ایک امریکی شہریت کا حامل بھی شامل ہے، مسلسل چوتھے دن بھی اپنے گھروں کے اندر محصور ہیں۔ایک انادولو نمائندے نے دیکھا کہ اسرائیلی فوجی متعدد گھروں کے اندر تعینات ہیں، جبکہ کچھ خاندان اپنے گھر چھوڑ کر رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں فلسطینی نوآبادیات اور مزاحمت کمیشن کے مطابق، اتوار سے اسرائیلی غیر قانونی آبادکارں نے قصرہ کے مضافات میں راس العین علاقے میں فلسطینی گھروں کے درمیان ایک خیمہ اور عارضی ڈھانچے کھڑے کر دیے ہیں۔ ساتھ ہی غیر قانونی آبادکارں نے علاقے تک جانے والی سڑکوں کو پتھروں سے بند کر دیا اور تین گھروں کو گھیرے میں لے لیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حملے ایک طویل محاصرے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں جس کا مقصد خاندانوں کو الگ تھلگ کرنا اور انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی آبادکارں نے گھروں تک خوراک، پانی اور دوائیوں کی رسائی میں رکاوٹ ڈالی ہے، جبکہ پانی اور بجلی کی لائنیں بھی منقطع کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا کام شروع
مزید برآں جمعرات کے اوائل میں، اسرائیلی فوج کی بڑی نفری نے قصرہ پر دھاوا بول دیا، کرفیو نافذ کیا اور کاروبار بند کرنے کا حکم دیا، جبکہ پیدل فوج، فوجی گاڑیوں اور بلڈوزروں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی گئی۔ واضح رہے کہ یہ پیشرفت علاقے میں غیر قانونی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور فلسطینیوں کے خدشات کے درمیان سامنے آئی ہے کہ چوکی قائم کرنے کی کوششیں مستقل ہو سکتی ہیں اور فلسطینی گھروں اور زمینوں کی ضبطی کا باعث بن سکتی ہیں۔کمیشن نے کہا کہ غیر قانونی آبادکاروں نے جبل راس العین کے علاقے میں آٹھ بار چوکی قائم کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ یہ بلند زمین پر واقع اسٹریٹجک مقام ہے جو ایک وسیع علاقے پر نظر رکھتا ہے۔ کمیشن نے مزید کہاکہ گھروں پر دھاوا بولنے اور انہیں ضبط کرنے کی کوششیں تقریباً چار ماہ قبل شروع ہوئی تھیں، جس کے باعث خاندان کے افراد نے ان پر قبضہ روکنے کے لیے باری باری گھروں میں قیام کیا۔کمیشن نے قریبی گاؤں جالود کے واقعات کی تکرار سے خبردار کیا، جہاں اس نے کہا کہ مقبوضہ افراد نے۲۲؍ جولائی کو محمود الطوباسی کے خاندان کا ایک گھر تین ماہ سے زیادہ محاصرے کے بعد ضبط کر لیا۔
کمیشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، غیر قانونی آبادکاروں نے اکتوبر۲۰۲۳ء سے جون ۲۰۲۶ء تک۱۲۵۰۶؍ حملے کیے، جس میں۵۲؍ فلسطینی شہید ہوئے اور۸۹۰؍ آگ لگائی گئیں جن سے فلسطینی جائیداد اور کھیتوں کو نقصان پہنچا۔اس کے علاوہ جولائی میں مقبوضہ مغربی کنارے بھر میں ۲۲۵۶؍ حملوں کی بھی نشاندہی کی، جن میں۱۴۵۸؍ اسرائیلی فوج کے ذریعے اور۷۹۸؍ غیر قانونی یہودی آبادکاروں نے کئے تھے۔