وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ ’’فارینر ٹربیونلز جن لوگوں کو غیرملکی قرار دیں گے انہیں ایک ہفتے کے اندر سرحد پار دھکیل دیں گے‘‘
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 11:55 PM IST | Guwahati
وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ ’’فارینر ٹربیونلز جن لوگوں کو غیرملکی قرار دیں گے انہیں ایک ہفتے کے اندر سرحد پار دھکیل دیں گے‘‘
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے جمعرات کو کہا کہ ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جن لوگوں کو فارین ٹریبونلز غیر ملکی قرار دیں گے، انہیں ایک ہفتے کے اندر اندر بنگلہ دیش واپس بھیج دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس قدم کا مقصد اس عمل کو اس لیے طویل ہونے سے روکنا ہے کہ یہ لوگ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا رخ نہ کر سکیں۔ اپنی حکومت کی کارکردگی اور منصوبوں پر بات کرتے ہوئے شرما نے بتایا کہ گزشتہ ۳؍ مہینوں میں تقریباً۲؍ہزار افراد کو بنگلہ دیش واپس بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ریاستی حکومت نے اسے پالیسی کے طور پر اپنا لیا ہے اور۱۹۵۰ء کے ایکسپلزن فرام امیگرنٹس ایکٹ (آسام) کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔
آسام کے وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم نے ایک نیا فیصلہ یہ کیا ہے کہ جیسے ہی فارن ٹریبونلز کسی شخص کو غیر ملکی قرار دیں گے، ہم انہیں ایک ہفتے کے اندر واپس دھکیل دیں گے تاکہ وہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ جا کر کارروائی کو طول نہ دے سکیں۔ جوں ہی ٹریبونل کسی کی شناخت کرے گا، ہم اسے واپس بھیج دیں گے۔‘‘ شرما نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی مہاجرین کے اخراج کے قانون کو برقرار رکھنے کے بعد ریاستی حکومت نے ’’پُش بیک‘‘ کو ایک پالیسی بنا دیا ہے، جس سے غیر ملکیوں کے معاملے میں پورا نظام بدل جائے گا۔
فارینرز ٹریبونلز کیا کرتے ہیں؟
فارن ٹریبونلز وہ نیم عدالتی ادارے ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ آسام میں رہنے والا کوئی شخص جو عام طور پر بارڈر پولیس کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے یا ووٹر لسٹ سے’ڈِی ووٹر‘قرار دیا گیا ہوہندوستانی شہری ہے یا غیر ملکی۔ ٹریبونل سے غیر ملکی قرار دیے جانے کے بعد متاثرہ افراد کو گوہاٹی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہوتا ہے۔ سرکاری طور پر ڈی پورٹ کرنے کے لیے بھی باہمی تصدیق اور دوسرے ملک کے حوالے کرنے کا عمل ضروری ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اگرچہ ہزاروں افراد کو برسوں سے ’غیر ملکی‘ قرار دیا گیا، لیکن باضابطہ ڈی پورٹیشن بہت کم ہو پائی۔ تاہم اس سال مئی سے حکومت نے ’’پُش بیک‘‘ کا غیر رسمی طریقہ اختیار کیا ہے، جس کے تحت لوگوں کو سرحد پار دھکیل دیا جاتا ہے۔ ستمبر میںآسام حکومت نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے۱۹۵۰ء کے پرانے قانون کو نافذ کرنے کو کہا ہے، اور متعدد مواقع پر لوگوں کو۲۴؍ گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ۔ شرما نے کہا کہ پہلے مسئلہ یہ تھا کہ ٹریبونل کے فیصلے کے بعد حکومت کے پاس کوئی مؤثر طریقہ نہیں تھا۔ لوگوں کو جیل میں رکھا جاتا، سالوں بعد ضمانت ہو جاتی، مگر وہ آسام میں ہی رہتے تھے۔ اب پہلی بار مرکز اور ریاستی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر ملکی قرار دیے جانے کے بعد انہیں ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں اور ہم انہیں فوراً واپس بھیجیں گے۔ حکومت کو اب ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاہدے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔