Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں سخت مقابلہ، کیرالا میں کانگریس کو سبقت،تمل ناڈو میں ڈی ایم کے

Updated: April 30, 2026, 12:45 PM IST | Agency | New Delhi

ایگزٹ پول کے نتائج کی بنیاد پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم، آسام اور پڈوچیری میں بی جےپی کی واپسی کا امکان مگر تمام ترکوششوں کے باوجود تمل ناڈو اور کیرالا میں مایوسی ہاتھ لگ سکتی ہے۔

Mamata Banerjee.Photo:PTI
ممتا بنرجی ۔ تصویر:پی ٹی آئی
مغربی بنگال جہاں کا اسمبلی الیکشن  سیکوریٹی فورسیز کی غیر معمولی تعیناتی کی وجہ سے ہندوستان   ہی نہیں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، میں اپنی پوری طاقت جھونک دینے کے باوجود ایگزٹ پولس کےمطابق بی جےپی  آسانی سےجیتتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے مگر اعدادوشمار کاٹنے کی ٹکر کااشارہ دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ۷؍ ایگزٹ پول میں سے ۵؍ میں بی جےپی کو سبقت ملنے کی پیش گوئی تو کی گئی ہے مگر اس کیلئے یہ جیت آسان نہیں ہے۔ 
پیپلز پلس نے ٹی ایم سی کو۱۷۷؍ سے ۱۸۷؍ نشستیں، بی جے پی کو۹۵؍ سے۱۱۰، بائیں محاذ کو صفر سے ایک اور کانگریس کو ایک سے ۳؍نشستیں دی ہیں۔ جن مت نے ٹی ایم سی کیلئے ۱۹۵؍ سے۲۰۵؍ نشستیں، بی جے پی اتحاد کیلئے ۸۰؍ سے ۹۰؍اور کانگریس کیلئےایک سے تین نشستوں کی پیش گوئی کی ہے۔دوسری جانب بیشتر دیگر ایجنسیوں نے بی جے پی کو برتری دی ہے۔  تاہم ٹی ایم سی لیڈروں نے انہیں مسترد کرتے ہوئے ۲۰۲۱ء کے الیکشن کا حوالہ دیا ہے۔ 
 آسام کے ایگزٹ پول میں  بی جے پی کی آسانی سے اقتدار میں واپسی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ایکسس مائی انڈیا نے پیش گوئی کی ہے کہ بی جے پی۸۸؍ سے۱۰۰؍نشستیں حاصل کرے گی جبکہ کانگریس کو۲۴؍ سے۳۶؍ نشستیں مل سکتی ہیں۔ ریاست میں اسمبلی کی کل ۱۲۶؍ نشستیں ہیں۔ اکثریت کیلئے ۶۴؍ نشستوں کی ضرورت ہے ۔یہاں۹؍اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی۔جے وی سی نے بی جے پی کیلئے ۸۸؍ سے۱۰۱؍ نشستوں اور کانگریس کیلئے ۲۳؍  سے۳۳؍ نشستوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اس نے  بدر الدین اجمل کی اے آئی یو ڈی ایف کو صفر تا۲؍ نشستیں اور دیگر کو۳؍ نشستیں دی ہیں۔آسام میں۸۵ء۳۸؍ فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جو کافی زیادہ رہی۔کانگریس نے برسراقتدار بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کا مقابلہ کرنے کے لیے ۶؍ جماعتوں پر مشتمل اتحاد قائم کیا تھا، جبکہ این ڈی اے مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں تھا۔کانگریس نے ایگزٹ پول کے نتائج کو مسترد کیا ہے۔ 
کیرالا میں جہاں بائیں محاذ کی حکومت  ہے، ایگزٹ پول میں تبدیلی کے آثار ظاہر کئے گئے ہیں۔  انتخابی جائزوں کے  مطابق کانگریس کی قیادت والا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کیرالا اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
ایکسس مائی انڈیا نے یو ڈی ایف کیلئے واضح اکثریت کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ۱۴۰؍ رکنی اسمبلی میں اسے۷۸؍تا ۹۰؍ نشستیں مل سکتی ہیں۔ اس کے مطابق  بائیں محاذ کو ۴۹؍ سے ۶۲؍ میں اکتفا کرنا پڑےگا جبکہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو صفر سے۳؍ نشستیں مل سکتی ہیں۔پیپلز پلس کے مطابق برسراقتدار ایل ڈی ایف کو۵۵؍ سے۶۰؍ جبکہ یو ڈی ایف کو۷۵؍ سے ۸۵؍ نشستوں  میں  کامیابی مل سکتی ہے۔ ایڑی چوٹی کا زور لگادینے کے باوجود جنوابی ہند کی اس ریاست میں  این ڈی اے کو صفر سے۳؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
 
 
تمل ناڈو میں ۲۳؍ اپریل کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ یہاں ایگزٹ پول میں اقتدار میں ڈی ایم کے کی واپسی کی امید ظاہر کی گئی ہے۔۔اس پیش گوئی کے بعد ڈی ایم کے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ۱۸۰؍ سے زیادہ نشستیں جیتے گی، جبکہ انّا ڈی ایم کے نے ایگزٹ پولز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہی اقتدار میں آئے گی۔تمل ناڈو اسمبلی کی کل۲۳۴؍ نشستیں ہیں اور اکثریت  کیلئے ۱۱۸؍ سیٹیں درکار ہیں۔ ڈی ایم کی فتح کی امیدوں کےبیچ بی جے پی لیڈر ایس وجے دھارنی نے بھی ایگزٹ پول نتائج کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’صرف جنوبی ہند کا میڈیا ڈی ایم کے کو برتری دے رہا ہے۔ شمالی ہند کے بیشتر ایگزٹ پولز یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اے آئی اے ڈی ایم کے اقتدار میں آئے گی۔‘‘  تمل ناڈو میں وجے بھی سیاستی طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں۔ ایکسس مائی انڈیا نے تو وجے کی پارٹی کو ۹۸؍ سے ۱۲۰؍ سیٹیں  ملنے کی پیش گوئی کی ہےتاہم دیگر سرویز میں اس کے واضح طاق بن کر ابھرنے کی پیش گوئی ہے۔ 
 
 
مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں حکومت کون بنائے گا؟ اس سوال کا درست جواب فی الحال کوئی نہیں دے سکتا۔اس کے باوجود اگزٹ پول کی پیش گوئیاں جاری ہیں۔’ایکسس مائی انڈیا‘کی اگزٹ پول کے مطابق  این ڈی اے کو انتخابات میں سبقت حاصل ہے۔ اس کے انتخابی جائزے کے مطابق۴۰؍ فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ پڈوچیری میں۱۶؍ سے ۲۰؍ سیٹیں جیتنے کا امکان ہے جبکہ ڈی ایم کے اور کانگریس کی زیرقیادت انڈیا اتحاد کو ۳۰؍ فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ۶؍ سے ۸؍ سیٹیں مل سکتی ہیں۔ اسی طرح  دیگر کے حصے میں ۳؍ سے۷؍ سیٹیں  جاسکتی ہیں۔
ایک دوسرے جائزے میں جسے ’پیپلز پلس‘ نے کیا ہے،  این ڈی اے کو ۱۶؍ سے ۱۹؍اور انڈیا اتحاد کو ۱۰؍ سے ۱۲؍ سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ پرجا پول نے این ڈی اے کو  ۱۹؍ سے ۲۵؍ اور انڈیااتحاد کو۶؍ سے ۱۰؍سیٹیں دی ہیں جبکہ ’کامیاکھیا‘ نے  این ڈی اے کو ۱۷؍ سے ۲۴؍ اور انڈیا کو ۴؍ سے ۷؍ سیٹیں دی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK