کانگریس لیڈر اور اسمبلی قائد حزب اختلاف نے تشویش کا اظہار کیا، اُن اسٹرانگ رومس کی تصاویر شیئر کیں جن میں ووٹنگ مشینوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 9:55 AM IST | Mumbai
کانگریس لیڈر اور اسمبلی قائد حزب اختلاف نے تشویش کا اظہار کیا، اُن اسٹرانگ رومس کی تصاویر شیئر کیں جن میں ووٹنگ مشینوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔
گوہاٹی (آئی این این):ایسے وقت میں جبکہ الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری مسلسل سوالات کی زد پر ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتخابی عملہ اس بات کی کوشش بھی نہیں کرتا کہ وہ غیر جانبدار اور محتاط نظر آئے۔ آسام اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر دیبراتا سائکیا نے سنیچر کو الزام لگایا کہ اسٹرانگ روم میں الیکشن کمیشن کی سیکوریٹی کے اصولوں کی کھلی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہاں تین حلقوں ڈیمو، شیوساگر اور نازیرہ کے انتخاب کے بعد مشینیں محفوظ رکھی گئی ہیں۔
الیکشن آبزرور نرسِمھاگوری ٹی ایل ریڈی کو لکھے گئے خط میں سائکیا نےبطور ثبوت تصویریں بھی پیش کی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شیوساگر گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اور ایم پی اسکول کے کمرہ نمبر ۱۲؍ اور ۱۵؍ میں موجودہ سیکوریٹی انتظامات الیکشن کمیشن آف انڈیا کی بنیادی ہدایات کی ’’براہ راست خلاف ورزی‘‘ہیں۔تصاویر میں دیکھا جاسکتاہےکہ کمروں کے ۲؍ دروازوں میں سے ایک جانب صرف ایک تالہ لگا ہوا ہے جس پر مہر لگی ہوئی ہے، جبکہ دوسرا دروازہ محض اندر سے بند ہے۔سائکیا نے کہاکہ’’یہ صورتحال الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سخت ہدایات کی براہ راست اور تشویشناک خلاف ورزی ہے جو حساس انتخابی مواد تک یکطرفہ یا غیر مجاز رسائی کو روکنے کیلئے بنائی گئی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں تعینات سی آر پی ایف جوانوں کے رول پر سوال
انہوں نے خط میں کہا کہ ڈبل لاک سسٹم نافذ نہ کرنا الیکشن کمیشن کی ہدایت کی خلاف ورزی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’اسٹرونگ روم میں صرف ایک داخلی راستہ ہونا چاہیے اور ڈبل لاک سسٹم ہونا چاہیے‘‘، اور’’ایک چابی ریٹرننگ آفیسر کے پاس اور دوسری متعلقہ اسمبلی حلقے کے اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر کے پاس ہونی چاہیے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے یہ بھی لازمی قرار دیا ہے کہ’’ہر تالے کی چابیاں ۲؍ الگ مقررہ افسران کے پاس ہوں‘‘ لیکن صرف ایک تالے کی موجودگی ان مشترکہ سکیوریٹی انتظامات کو ’’مکمل طور پر ناکارہ‘‘بنا دیتی ہے۔ سائکیا نے الزام لگایا کہ اس مقام پر’’ الیکٹرانک نگرانی ‘‘ کا نظم بھی پوری طرح ناکارہ ہے ۔ یعنی اگر کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے تو سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس کےمحفوظ ہونے کی امید بھی معدوم نظر آتی ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ اس اصول کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے جس کے تحت ’’کم از کم ایک پلاٹون سی اے پی ایف کو۲۴؍ گھنٹے اسٹرانگ روم کی حفاظت کیلئے تعینات رہنا چاہئے۔‘‘