• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیانیش کمار کے خلاف احتجاج سے قبل ملک بھر میں کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد حراست میں: سی جے پی

Updated: October 09, 2026, 1:02 PM IST | New Delhi

کاکروچ جنتا پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ۱۰؍ اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے قبل ملک بھر میں طلبہ، کسانوں اور دلت تنظیموں کے ارکان سمیت کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مظاہرین ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف گیانیش کمار کے استعفے اور اس عمل کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

کاکروچ جنتا پارٹی نے جمعرات کو الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سنیچر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے قبل ملک بھر میں طلبہ، کسانوں اور دلت تنظیموں کے ارکان سمیت کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ طلبہ اور سول سوسائٹی کی کئی تنظیموں نے بھی الزام لگایا ہے کہ پولیس دہلی جانے والے افراد کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے حراست میں لے رہی ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق، پولیس کارکنوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر رہی ہے اور مقامی باشندوں سے مظاہرے میں شامل نہ ہونے کو کہہ رہی ہے۔ یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے طلب کیا ہے۔ مظاہرین ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ اس مشق کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ۲؍ اکتوبر سے انڈیا اتحاد (انڈیا بلاک) کے لیڈر، طلبہ یونینیں اور دیگر گروپ دہلی میں احتجاج کر رہے ہیں۔

حراستیں اور پابندیاں

مہاراشٹر میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی لیڈر شراونی بوا اور ان کے ساتھیوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے بھوساول ریلوے اسٹیشن پر انہیں دہلی جانے سے روک دیا۔ طلبہ یونین نے یہ بھی الزام لگایا کہ پونے سے دہلی جانے والی تقریباً ۲۲؍ طالبات کو مدھیہ پردیش پولیس نے اٹارسی میں حراست میں لے لیا۔ ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق، طالبات کو ایک ہوٹل میں لے جایا گیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے الزام لگایا کہ راجستھان پولیس نے اس کے قومی ترجمان دیپک بالیان پر حملہ کیا اور الور ضلع میں ان کے گھر سے انہیں حراست میں لے لیا۔ اس سیاسی مہم نے یہ الزام بھی لگایا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اس کے چار رضاکاروں کو دہلی جاتے ہوئے بھوپال میں حراست میں لیا گیا۔ تاہم دہلی میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کی لیڈر آئشی گھوش نے الزام لگایا کہ پولیس لاٹھیاں لے کر تنظیم کے قومی دفتر میں داخل ہوئی۔ تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی قومی نائب صدر ستیاشا کو گجرات میں ان کے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے یہ الزام بھی لگایا کہ پولیس قومی دارالحکومت کے علاقے ساؤتھ ایکسٹینشن میں اس کے شمالی زون کے رابطہ کار کے گھر میں داخل ہوئی۔

’اسکرول‘ کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کی رات دیر گئے سے دہلی پولیس پارلیمنٹ کے قریب اعلانات کر رہی ہے کہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ ۱۶۳؍ نافذ ہے۔ اس دفعہ کے تحت اجتماعات، جلوسوں اور سڑکوں کی ناکہ بندی پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ پولیس نے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی تنبیہ بھی کی ہے۔ ’دی پرنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے مساجد کا دورہ کیا اور مذہبی رہنماؤں سے کہا کہ وہ لوگوں کو ’’غیر ضروری احتجاج‘‘ میں شرکت سے روکیں۔ دریں اثنا، ۴۷؍ ماہرینِ تعلیم، محققین، سول سوسائٹی کے ارکان اور کارکنوں کے ایک گروپ نے دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچھا کو خط لکھا ہے۔ خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس اہلکار کالجوں، مساجد، رہائشی فلاحی انجمنوں اور دیگر عوامی مقامات کا دورہ کرکے لوگوں کو احتجاج میں شرکت سے روک رہے ہیں۔

جمعہ کو تحریر کیے گئے خط میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پولیس پیئنگ گیسٹ (پی جی) رہائش گاہوں کے منتظمین سے رابطہ کرکے انہیں طلبہ اور دیگر کرایہ داروں کو مظاہروں میں شرکت سے روکنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ خط میں کہا گیا، ’’براہِ کرم اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی فورس ان غیر آئینی اور مجرمانہ دباؤ ڈالنے کے حربوں کو فوری طور پر بند کرے، بصورتِ دیگر آپ کو قانون کے تحت ہر ممکن طریقے سے جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔‘‘ خط پر دستخط کرنے والوں میں سیاسی کارکن یوگیندر یادو، ماہرِ تعلیم اپوروآنند اور ماہرِ معاشیات جیتی گھوش شامل ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے جمعہ کو کہا کہ حراستوں اور پابندیوں کے باوجود مظاہرین جنتر منتر تک مارچ کریں گے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے خطاب کرتے ہوئے دِپکے نے مزید کہا، ’’اگر آپ ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں یا گولی بھی مارنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔ ہم آپ کے غیر متوازن رویے کے سامنے نہیں جھکیں گے۔‘‘

سنیچر کو احتجاج کی اجازت نہیں: پولیس

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، دہلی پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اس نے ۱۰؍ اکتوبر کو جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اے این آئی نے نام ظاہر نہ کرنے والے حکام کے حوالے سے بتایا کہ احتجاج سے قبل دہلی بھر میں تقریباً ۲۳؍ ہزار سیکوریٹی اہلکار تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔ ’دی ہندو‘ نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی کم از کم ۷۰؍ کمپنیاں، جن میں تقریباً ۷؍ ہزار اہلکار شامل ہیں، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ سے دارالحکومت منتقل کی جا رہی ہیں۔ اہلکاروں کو ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے آلات، ہتھیار اور گولہ بارود ساتھ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ٹرینیں منسوخ

’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی ریلوے نے سنیچر کو صبح ۴؍ بجے سے دوپہر ۲؍ بجے کے درمیان نئی دہلی ریلوے اسٹیشن اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن پہنچنے والی تمام میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ کردی ہیں۔ رپورٹ میں اس فیصلے کی وجہ اسٹیشنوں کے اطراف سڑکوں پر ٹریفک جام ہونے کے خدشے کو بتایا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق ان ٹرینوں پر بھی ہوگا جنہیں جمعہ کو دوپہر ۲؍ بجے کے بعد اپنے ابتدائی اسٹیشنوں سے روانہ ہونا تھا۔

گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ

مظاہرین کے خدشات میں اس وقت اضافہ ہوا جب ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ۲۳؍ ستمبر کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ۱۰؍ ماہ کے دوران ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر ۱۴؍ مرتبہ باضابطہ اعتراض کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض فیصلے ان کی معلومات کے بغیر کیے گئے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی تحقیق کے مطابق، سندھو اور جوشی نے فارم ۶؍ میں تبدیلیوں، مغربی بنگال میں ووٹر فہرست میں نام شامل کیے جانے کے خلاف اپیلوں اور گوا میں ووٹروں کے اعداد و شمار سے نمٹنے سمیت کئی معاملات پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ فارم ۶؍ نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک تحریری اعتراض میں سندھو کے حوالے سے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے دونوں کمشنروں کے مشورے کے خلاف کارروائی کی اور اس اقدام کو ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔ دونوں الیکشن کمشنروں نے ڈیجیٹل انتخابی فہرست کے ڈیٹا بیس تک رسائی کے معاملے پر بھی خدشات ظاہر کیے تھے۔

جون ۲۰۲۵ء میں شروع ہونے کے بعد سے ایس آئی آر کے نفاذ کے طریقۂ کار اور رفتار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں حقیقی ووٹروں کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا جاسکتا ہے اور انتخابی نتائج پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جیسا کہ ’اسکرول‘ نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے۔ اپوزیشن نے بھی گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم گیانیش کمار نے ابھی تک ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی تحقیقاتی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ رپورٹ شائع ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ’’ابتدائی مسودوں کے مرحلے میں کمیشن کے ارکان کی جانب سے عملی امور سے متعلق سوالات یا تجاویز اٹھانا ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے معمول کی انتظامی کارروائی کا حصہ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK