• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ میں کم از کم ۸۱؍ امریکی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ

Updated: October 08, 2026, 2:05 PM IST | Washington

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کم از کم ۸۱؍ امریکی طیارے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق نقصانات میں ڈرونز، جنگی طیارے، ایندھن بھرنے والے طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

File photo of a US aircraft.
امریکی ایئر کرافٹ کی فائل فوٹو۔

غیر جماعتی کانگریشنل ریسرچ سروس (CRS) کی جانب سے تیار کردہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران کم از کم ۸۱؍ امریکی فکسڈ ونگ، روٹری ونگ اور بغیر پائلٹ کے طیارے یا تو تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ یہ اعداد و شمار ۲۸؍ فروری سے پیش آنے والے فوجی واقعات پر مبنی ہیں، جنہیں پینٹاگون کے ریکارڈ، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے بیانات، فوجی انسپکٹر جنرل کی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس سے جمع کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بغیر پائلٹ کے طیاروں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ ان میں ۴۵؍ ایم کیو-۹ ریپر ڈرونز اور ۳؍ ایم کیو-ون ملٹی رول طیارے فوجی کارروائیوں کے دوران مار گرائے گئے، جبکہ ایک ایم کیو-۴ سی ٹرائٹن پرواز کے دوران پیش آنے والے حادثے میں تباہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ڈیل کیلئے ’بڑی پیش رفت‘ کا دعویٰ، بصورتِ دیگر ’ناخوشگوار راستے‘ کی تنبیہ

انسان بردار جنگی طیاروں کو بھی نمایاں نقصان پہنچا۔ مجموعی طور پر ۱۲؍ ایف-۱۵ ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیارے متاثر ہوئے، جن میں ۳؍ کو کویت کے اوپر اپنے ہی فوجی دستوں کی فائرنگ سے تباہ کیا گیا، ایک ایران کے اوپر مار گرایا گیا، جبکہ ۸؍ طیاروں کو اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے کے دوران معمولی نقصان پہنچا۔ یہ تمام ۸؍ طیارے بعد میں دوبارہ سروس میں شامل ہوگئے۔ تاہم ایرانی زمینی فائرنگ سے جدید ایف-۳۵ اے لائٹننگ II جنگی طیارے کو نقصان پہنچا، جبکہ ۲؍ اے-۱۰ تھنڈر بولٹ II زمینی حملہ آور طیارے تباہ ہوئے یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔ امریکی معاون طیاروں کے بیڑے کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ۷؍ کے سی-۱۳۵ اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بھرنے والے طیارے متاثر ہوئے، جن میں عراق میں پیش آنے والے ایک جان لیوا حادثے میں ۶؍ اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ سعودی عرب میں ۵؍ طیاروں کو مبینہ طور پر زمین پر نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ ایک ای-۳ سینٹری ابتدائی انتباہی طیارے کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایم سی-۱۳۰ جے اسپیشل آپریشنز کے ۲؍ ٹرانسپورٹ طیارے ایک امدادی مشن کے دوران جان بوجھ کر تباہ کیے گئے۔ ۷؍ فوجی ہیلی کاپٹر بھی تباہ یا متاثر ہوئے، جن میں اے ایچ-۶۴ اپاچی اور اے ایچ-۶ لٹل برڈ ماڈلز شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کیمسٹری کا نوبیل انعام ہنری کاگن، کینسو سوئی کے نام، مالیکیولز کا صدیوں پرانا راز حل

یہ انکشافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران جنگ کے مالی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ یہ جنگ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی مربوط کارروائیوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ لیڈ انسپکٹر جنرل کی ستمبر میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جون کے آخر تک اس فوجی مہم پر مجموعی طور پر ۴ء۳۳؍ ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے، جن میں ۳ء۷؍ ارب ڈالر آلات اور فوجی سازوسامان کے نقصانات کی مد میں شامل تھے۔ کانگریشنل بجٹ آفس نے فوجی سازوسامان کی جگہ نئے آلات خریدنے کی لاگت ۳ء۳؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ لگایا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس نے واضح کیا کہ طیاروں کے نقصانات کی تعداد میں مزید تبدیلی ہوسکتی ہے، کیونکہ بعض معلومات خفیہ ہیں، فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور بعض نقصانات کی ذمہ داری کا تعین ابھی حتمی نہیں ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK