Updated: October 07, 2026, 8:01 PM IST
| Washington/Tehran
ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کو کون چلا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی اعلیٰ قیادت کی دو بالائی سطحیں ”ختم ہو چکی ہیں۔“ ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے ہم منصبوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ علیحدہ طور پر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کو یورینیم کی افزودگی میں نمایاں کمی کرنی ہوگی۔ انہوں نے صدر پزیشکیان اور وزیرِ خارجہ عراقچی کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کی تصدیق کی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر خلیجی اور علاقائی لیڈران کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا ہے کہ تہران پر واشنگٹن کے شدید فوجی اور معاشی دباؤ کے برقرار رہنے کے باوجود ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کیلئے ”بڑے پیمانے پر پیش رفت“ ہو رہی ہے۔ منگل کو ہونے والی اس ملاقات میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے نائب وزیرِ اعظم شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اردن، ترکی، شام اور مصر کے لیڈران شریک تھے۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ان کے سفیروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اسی دن کے اوائل میں ایرانی ثالثوں سے بات چیت کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”ایرانی ان دونوں کا بہت احترام کرتے ہیں... میرا خیال ہے کہ ان کیلئے ڈیل کرنے کی راہ میں بہت پیش رفت ہو رہی ہے۔“ متحدہ عرب امارات کے شیخ عبداللہ نے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی اور کشیدگی میں کمی کیلئے یو اے ای کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ نسل کشی کے ۳؍ سال: ۲۰؍ ہزار طلبہ، ۲۶۳؍ صحافی شہید: فلسطینی وزارت
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی معیشت ”واقعی خراب حالت“ میں ہے اور واشنگٹن ایران کو مالیاتی طور پر ”مکمل طور پر تنہا“ کر رہا ہے تاکہ تہران کو ”بہت دیر ہونے سے پہلے“ معاہدے کی طرف لایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے ایرانی بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور تیل کی ترسیل کو بحال کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
ایران میں غیر واضح قیادت
ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کو کون چلا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی اعلیٰ قیادت کی دو بالائی سطحیں ”ختم ہو چکی ہیں۔“ ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے ہم منصبوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ علیحدہ طور پر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کو یورینیم کی افزودگی میں نمایاں کمی کرنی ہوگی۔ انہوں نے صدر پزیشکیان اور وزیرِ خارجہ عراقچی کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران جنگ میں ۸۱ امریکی طیارے تباہ یا متاثر ہوئے: کانگریس کی رپورٹ
۵ اکتوبر کو جاری کردہ کانگریس ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ۲۸ فروری کو ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک ۸۱ سے زائد امریکی فوجی طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں ۴۵ ایم کیو-۹ ریپر (MQ-9 Reaper) ڈرونز شامل ہیں، جو پچھلی رپورٹ کے ۲۴ کے مقابلے تیزی سے بڑھے ہیں۔ متاثرہ طیاروں میں ۱۲ ایف-۱۵ ای اسٹرائیک ایگلز (F-15E Strike Eagles) شامل ہیں، جن میں سے ۳ کو مارچ میں کویتی فضائی دفاع کے ذریعے فرینڈلی فائر کے ایک واقعے میں مار گرایا گیا تھا۔ دیگر نقصانات میں ایک ایف-۳۵ اے لائٹننگ II، ایک ای-۳ سینٹری، ایک ایچ ایچ-۶۰ ڈبلیو ہیلی کاپٹر اور کئی چھوٹے طیارے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، کچھ متاثرہ طیارے بعد میں دوبارہ سروس میں لوٹ آئے تھے۔
امریکہ کے ایران جنگ کے اخراجات ۴۴ ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، یو ایس سینٹرل کمانڈ کے ایک تخمینے کے تحت ۳ ستمبر تک ایران جنگ کے مجموعی اخراجات ۶ء۴۳ ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ ان اخراجات میں گولہ بارود کیلئے ۱ء۲۸ ارب ڈالر اور ساز و سامان کے نقصانات کیلئے ۳ء۴ ارب ڈالر شامل ہیں۔ کانگریس کے بجٹ آفس نے اس سے قبل یکم اگست تک ساز و سامان کی متبادل لاگت کا تخمینہ ۹ء۱ سے ۳ء۳ ارب ڈالر لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض دینے کا فیصلہ، رقم منتقلی کیلئے تیار: رپورٹ
ایران آبنائے ہرمز کا ’مکمل کنٹرول کھو چکا ہے‘: روبیو
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا ”مکمل کنٹرول کھو چکا ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے، جبکہ تہران کی معیشت کو ”مکمل زوال“ کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے علیحدہ طور پر کہا کہ ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر یا اس سے بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے وزیرِ پیٹرولیم نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے کہ ملک کے پاس ”نہ معیشت ہے، نہ تیل ہے، اور نہ ہی کچھ اور۔“