افغانستان سے نیٹو کا سامان لےجانے والے ٹرکوں پر پاکستان میں حملہ

Updated: October 18, 2020, 12:05 PM IST | Agency | Peshawar

خیبر پختونخواہ کے سرحدی علاقوں میں راکٹ مار کر ٹرکوں پر لدے جنگی سازوسمامان کو تباہ کر دیا گیا ، کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری نہیںلی

Army - PIC : INN
آرمی ۔ تصویر : آئی این این

 پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ملحقہ قبائلی ضلع خیبر میں نامعلوم افراد نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کا سامان لے جانے والے ٹرکوں پر حملہ کیا ہے۔ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں نیٹو کے واپس جانے والے دو ٹرالر پر لوڈ چار جیپوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چاروں جیپیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ جب کہ ایک ٹرالر سڑک سے نیچے اتر گیا اور اس میں آگ لگ گئی۔ حملے میں دوسرے ٹرالر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
 حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں نشانہ ٹرالر پر موجود نیٹو کی گاڑیاں تھیں۔ یہ گاڑیاں دو ٹرالروں پر لے جائی جا رہی تھیں جن کے ڈرائیوروں نے بھاگ کر اپنے آپ کو بچایا۔راکٹ حملے اور آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی ضلع خیبر میں  راحتی کام کے ادارے’  ریسکیو ۱۱۲۲؍‘ کے اہل کار موقع پر پہنچے اور گاڑیوں میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کی۔ ریسکیو ۱۱۲۲؍ ضلع خیبر کے سربراہ ملک اشفاق نے بتایا  کہ ٹیلیفون پر اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہل کار اور آگ بجھانے کا عملہ موقع پر پہنچا اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔    خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے باڑہ میں فرنٹیر روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے نیٹو کا سامان لے جانے والے کنٹینروں پر حملہ کیا اور کنٹینروں پر مبینہ طور پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ واقعے کے ایک عینی شاہد کے مطابق نیٹو کی گاڑیوں پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی۔اُنہوں نے تصدیق کی کہ اس حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
 ان  حملوں کے حوالے سے تاحال ​کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔واضح رہے کہ ​کئی برس کے بعد پشاور سے ملحقہ قبائلی ضلع خیبر میں سرحد پار افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کا سامان کے جانے والے ٹرکوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ ماضی میں، بالخصوص ۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۲ء تک، مختلف مقامات پر انتہاپسندوں نے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لئے سامان لے جانے والے ٹرکوں کے قافلوں پر لاتعداد حملے کئے۔ جمعہ کو ہونے والا حملہ نیٹو افواج کے اس دفاعی سامان پر تھا جو افغانستان سے براستہ طورخم اور کراچی کی بندرگاہ سے واپس لے جایا جا رہا ہے۔
جنوبی وزیرستان میں سیکوریٹی سخت
 ادھر جنوبی وزیرستان کے علاقے شکتوئی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب انتہا پسندوں کے پاکستانی فوج پر حملے کے بعد سیکوریٹی سخت کر دی گئی ہے۔شکتوئی کو دیگر علاقوں سے ملانے والی تمام سڑکوں کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ جبکہ علاقے میں کرفیو جیسی صورتِ حال ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پاک  فوج پر ہوئے حملے میں ایک کیپٹن سمیت ۶؍ فوجی اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK