• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اورنگ آباد: کانگریس کا کسانوں کیلئے ’جن آکروش مورچہ‘

Updated: October 15, 2026, 1:14 PM IST | Z. A. Khan | Aurangabad

ریاستی حکومت کے خلاف منعقدہ احتجاج میں مطالبہ کیا گیا کہ مراٹھواڑا میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کی مکمل قرض معافی کی جائے۔

Political workers, farmers and common citizens participated in this protest under the Congress banner in large numbers. Photo: INN
کانگریس کے بینر تلے ہونے والے اس احتجاج میں سیاسی کارکنان، کسان اور عام شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ تصویر: آئی این این

مراٹھواڑا کی سنگین خشک سالی اور ریاستی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کانگریس کی جانب سے اورنگ آبادمیں ’جن آکروش خشک سالی مورچہ‘ کا آغاز کیا گیا۔بتایا گیا کہ شہر کے  پیٹھن گیٹ سے شروع ہونے والا یہ احتجاجی مارچ ڈویژنل کمشنر کے دفتر پہنچے گا، جہاں حکومت کے سامنے کسانوں کے مسائل اور مطالبات پیش کئے جائیں گے۔  کانگریس کے اس احتجاجی مارچ کی قیادت ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کی۔ جبکہ ضلعی اور تعلقہ کانگریس کے متعدد لیڈران اور سیکڑوں کارکنان نے اس میں شرکت کی۔اس مظاہرے میں کسان بھی شامل ہوئے ہیں۔ مورچہ کے دوران ہرش وردھن سپکال نے ریاستی حکومت ، بالخصوص وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ کمبھ میلے اور شکتی پیٹھ ہائی وے کے لیے مختص کروڑوں روپے کی رقم کسانوں کی قرض معافی اور مالی امداد کیلئے استعمال کی جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: انکیتا کے والدین کا دہلی میں احتجاج، راہل اور پرینکا ملنے پہنچےا

خشک سالی کی سنگین صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کسانوں کی فصلیں مکمل طور پر سوکھ چکی ہیں، زرعی پیداوار کو مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے اور گزشتہ سال کی پیداوار بھی کسانوں کے گھروں میں پڑی ہوئی ہے، لیکن اسے فروخت کرنے کیلئے کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے حکمران دیویندر فرنویس بے فکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدعنوانی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ’کمبھ کرن‘ کو نیند سے جگانے کے لئے اب سبھی کو متحد ہوکر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا کہ کمبھ میلے کے لئے ۳۶؍ ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس رقم میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر یہ رقم کسانوں کی فلاح و بہبود اور قرض معافی کے لیے مختص کرے۔کانگریس نے شکتی پیٹھ ہائی وے کے منصوبے کو بھی منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

کسانوں کیلئے کانگریس کے مطالبات

 کانگریس کے ریاستی صدر نے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے پر خرچ ہونیوالے۸۰؍  ہزار کروڑ روپے کسانوں کی قرض معافی کے لیے استعمال کئے جانے چاہئیں۔ خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو فی ہیکٹر ایک لاکھ روپے کی فوری مالی امداد دی جائے۔ریاست کے تمام کسانوں کے قرض مکمل طور پر معاف کیے جائیں۔کمبھ میلے کے لئے مختص۳۶؍ہزار کروڑ روپے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیے جائیں۔شکتی پیٹھ ہائی وے کا منصوبہ منسوخ کرکے اس کے لئے مختص۸۰؍ ہزار کروڑ روپے کسانوں کی قرض معافی کیلئے استعمال کیے جائیں۔ان مطالبات کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کیلئے کانگریس کے ہزاروں کارکنان اور کسان مورچے میں شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی ایس آئی آر میں ’منطقی تضاد‘ کی زد پرسب سے زیادہ مسلم ووٹرآئے

مہاراشٹر کرناٹک سرحد پربھی کسانوں کا مظاہرہ

 پونے: مہاراشٹر اور کرناٹک کی سرحد پر کسانوں کے احتجاج کے باعث بدھ کے روز مصروف ممبئی-بنگلورو قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ پولیس نے مسافروں کو اس راستے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کولہاپور رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولیس رنجن کمار شرما نے لوگوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ پولیس نے گوگل میپس کے حکام کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ کرناٹک میں مہاراشٹر کی سرحد کے قریب واقع کوگنولی ٹول پلازہ پر جاری احتجاج کے باعث قومی شاہراہ نمبر۴۸؍ کے متاثرہ حصے کو بند دکھایا جائے۔ کسان منگل کی صبح سے گنے کی قیمتوں، ایتھنول کی شرحوں اور دیگر مطالبات کے تحت دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اورجم کر احتجاج کررہے ہیں۔ اس باعث مہاراشٹر کے کولہاپور اور دیگر علاقوں سے کرناٹک کے بیلگام اور بنگلور کی جانب جانے والی ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ ٹریفک جام کا بدھ کو دوسرا دن تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK