برطانوی ادارے آکسفیم نے اس حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے اور بتایا کہ کورونا کے بعد سے تو یہ سلسلہ اور تیز ہوگیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 1:13 PM IST | London
برطانوی ادارے آکسفیم نے اس حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے اور بتایا کہ کورونا کے بعد سے تو یہ سلسلہ اور تیز ہوگیا ہے۔
دنیا کے امیرترافراد کی دولت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔اس حوالے سے ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کوروناوباء کے بعد تو امیر تر افراد کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔یعنی دنیا کے امیر ترین اور ارب پتی افراد سنگین بحران کے باوجود خوب کما رہے ہیں۔برطانوی فلاحی تنظیم آکسفیم کی تازہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک جانب کورونا وباء کے دوران بھی دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔جبکہ دوسری جانب غریبوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر غربت اور سماجی عدم مساوات میں مزید اضافہ درج کیا گیا ہے۔
آکسفیم کی تازہ ترین عدم مساوات رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی وبا کے بعد ان افراد کی دولت میں ۶۰؍فیصد سے زیادہ یعنی۸ء۲؍ ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔آکسفیم کی جنوری۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں معاشی عدم مساوات خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ارب پتیوں کی دولت میں گزشتہ ایک سال کے دوران۲ء۵؍ کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی غربت بدستور برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا: ہاتھی کی سواری پر پابندی، ایسا کرنے والا پہلا ایشیائی ملک
دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج وسیع تر ہو رہی ہے۔رپورٹ میں ارب پتیوں پر ٹیکس بڑھانے اور دولت کے ارتکاز کو روکنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ صنفی و سماجی تفریق کم کی جاسکے۔صرف گزشتہ سال ہی ارب پتی افراد نے اپنی دولت میں ۲۰۵؍ٹریلین ڈالر کا اضافہ کیا۔یہ رقم مجموعی طور پر ان چار ارب لوگوں کے کل اثاثوں کے برابر ہے، جو غربت میں زندگی گزاررہے ہیں۔
آکسفیم انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امیتابھ بہر کے مطابق یہ۲ء۵؍ ٹریلین ڈالر غربت کو۲۶؍ بار ختم کرنے کے لیے کافی ہوسکتے ہیں۔یہ ارب پتی افراد معاشی بحرانوں کے درمیان فوائد حاصل کرکے خوب کمائی کرلیتے ہیں۔آکسفیم نے بڑھتی ہوئی اقتصادی عدم مساوات کے ساتھ ساتھ صنفی اور نسلی تفریق پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے تنظیم نے امیر ترین افراد پر’’دولت ٹیکس‘‘ (ویلتھ ٹیکس) عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاسکے۔