• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا: ڈجیٹل سیفٹی بل متعارف، صارف کو سوشل میڈیا الگورتھم بند کرنے کی اجازت

Updated: October 16, 2026, 1:13 PM IST | Canberra

آسٹریلیا نے ڈجیٹل سیفٹی بل متعارف کرایا جو صارفین کو سوشل میڈیا الگورتھم بند کرنے کی اجازت دیتا ہے،مجوزہ قانون صارفین کو فیڈز پر زیادہ کنٹرول دے گا، ٹیک کمپنیوں پر حفاظتی ذمہ داریاں عائد کرے گا اور۷۵؍ ملین ڈالر تک جرمانے متعارف کرائے گا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

آسٹریلیا نے جمعرات کو قانون سازی متعارف کرائی جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کو الگورتھم پر مبنی سفارشات کو بند کرنے کی اجازت دینا ہوگی، جو آن لائن سیفٹی کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع اقدامات کا حصہ ہے۔ڈجیٹل ڈیوٹی آف کیئر بل۲۰۲۶ء کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آن لائن نقصانات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے فعال طور پر انہیں روکنا ہوگا۔کمیونیکیشن منسٹر انیکا ویلز کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ۱۶؍ سال سے زیادہ عمر کے آسٹریلیائی باشندے الگورتھم کے ذریعے تجویز کردہ مواد کو اپنی بنیادی فیڈ کے طور پر یا اپنے فالو کیے گئے اکاؤنٹس میں سے انتخاب کر سکیں گے۔ مزید برآں مجوزہ قانون سوشل میڈیا پلیٹ فارم، گیمنگ سروسیز، ایپلی کیشن اور مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کے لیے کم از کم حفاظتی معیارات قائم کرے گا۔پلیٹ فارم کو ۱۸؍ سال سے کم عمر کے صارفین کو نقصان دہ مواد سے بچانا بھی ہوگا، بشمول کھانے کی خرابی، خطرناک اسٹنٹ، مجرمانہ رویے اور خواتین کے تئیں دشمنی کو فروغ دینے والا مواد۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطین ایکشن کی حمایت کا نتیجہ؛ سیلی رونی کی کتابیں اب برطانیہ میں فروخت نہیں ہوں گی

علاوہ ازیں یہ قانون سازی آسٹریلیا کے ای سیفٹی کمشنر کواے آئی سے چلنے والی نیوڈیفیکیشن سروسیز کو ہٹانے اور سائبر بُلنگ اور آن لائن بدسلوکی کی شکایات کے لیے جوابی ڈیڈ لائن کو۴۸؍ سے۲۴؍ گھنٹے تک کم کرنے کا اختیار دے گی۔جبکہ  خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو۷۵؍ ملین امریکی ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم پیشہ ورانہ خبری مواد اور تفریحی میڈیا کو مجوزہ دفعات سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات پر زور، دنیا کے۲۰؍ فیصد بچے انتہائی غربت کا شکار

ویلز کا کہنا ہے کہ ،’’ ڈجیٹل ڈیوٹی آف کیئر ہمارے دنیا میں معروف آن لائن سیفٹی قوانین میں اگلا قدم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ ان ڈیجیٹل سروسیز کے لیے بنیادی حفاظتی معیارات طے کرے گا جو ہم ہر روز استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ ہمارے پاس خوراک، کاروں اور بچوں کے کھلونوں کے لیے ہے۔دریں اثناء یہ بل ایوان نمائندگان میں پیش کیا گیا تھا اور قانون بننے سے پہلے اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، بشمول سینیٹ سے منظور ہونا ضروری ہے۔ یہ تجویز۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر آسٹریلیا کی تاریخی پابندیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جو ڈجیٹل پلیٹ فارم کو ریگولیٹ کرنے کے لیے آسٹریلیاکی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK