Updated: October 15, 2026, 9:04 PM IST
| London
سیلی رونی کے ناشر فیبر (Faber) نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے رونی کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ ”ہم برطانیہ میں کسی بھی فارمیٹ میں ان کی تخلیقات فراہم نہیں کرسکتے۔ برطانیہ میں موجودہ قانون سازی نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جہاں فیبر سیلی رونی کو برطانیہ میں فروخت ہونے والی ان کی کتابوں کی رائلٹی انہیں منتقل نہیں کر سکتا۔ کسی مصنف کی کتابوں کو فروخت کرنا اور اس کی کمائی ان تک نہ پہنچا پانا ایک ناشر کیلئے ناقابلِ قبول اور غیر اخلاقی صورتحال ہے۔“
آئرش ناول نگار سیلی رونی کی کتابیں اب برطانیہ میں فروخت نہیں کی جائیں گی۔ یہ پیش رفت رونی کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی رائلٹی کی رقم ’فلسطین ایکشن‘ کی حمایت کیلئے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ”نارمل پیپل“ (Normal People) اور ”کنورسیشنز ود فرینڈز“ (Conversations with Friends) جیسی مشہور اور بڑی تعداد میں فروخت ہونے والی کتابوں کی مصنفہ اس گروپ کی کھل کر حمایت کرتی رہی ہیں، جسے برطانوی حکومت نے گزشتہ سال دہشت گردی کے قوانین کے تحت کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس پابندی کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں دائر چیلنج میں ایک گواہ کے بیان میں انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کے منصوبوں کے نتیجے میں ان کی کتابیں برطانیہ میں فروخت سے واپس لی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو پر مقدمہ چلاکر اسے سزادینا چاہیے: نوبل امن انعام یافتہ نوی پلے
سیلی رونی کے ناشر فیبر (Faber) نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے رونی کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ ”ہم برطانیہ میں کسی بھی فارمیٹ میں ان کی تخلیقات فراہم نہیں کرسکتے۔“ ان کی کتابیں دیگر مقامات پر فروخت ہوتی رہیں گی۔ پبلشر نے کہا کہ ”برطانیہ میں موجودہ قانون سازی نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جہاں فیبر سیلی رونی کو برطانیہ میں فروخت ہونے والی ان کی کتابوں کی رائلٹی انہیں منتقل نہیں کر سکتا۔ کسی مصنف کی کتابوں کو فروخت کرنا اور اس کی کمائی ان تک نہ پہنچا پانا ایک ناشر کیلئے ناقابلِ قبول اور غیر اخلاقی صورتحال ہے۔“ رونی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ”عوام کے ساتھ اپنے عقائد اور ارادوں کے بارے میں ایماندار رہنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے“ اور وہ ”نتائج کو قبول کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی حمایت پر انڈونیشیا میں اینڈریا بوچیلی کے کنسرٹ کی منسوخی کا مطالبہ
حکومت کی جانب سے یہ عندیہ دیئے جانے کے بعد کہ فلسطین ایکشن کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے، اس کی فنڈنگ جانچ پڑتال کی زد میں آ گئی ہے۔ گروپ نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ پابندی کے باوجود گروپ نے آن لائن عطیات کی اپیل جاری رکھی ہے۔ شریک بانی ہدیٰ عموری اگلے ماہ سپریم کورٹ میں اس پابندی کو چیلنج کریں گی۔ ہائی کورٹ نے اس سے قبل اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھا، لیکن کورٹ آف اپیل نے ہوم آفس کے حق میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ برطانیہ میں اس گروپ کی حمایت کا اظہار کرنے پر ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں `میسیو اٹیک` (Massive Attack) کے رابرٹ ڈیل نجا بھی شامل ہیں، جنہیں گزشتہ ماہ دوسری بار گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نےشمالی مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی مسترد کی
رونی نے ان گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوئے گزشتہ سال ’دی آئرش ٹائمز‘ میں انہیں ”انسدادِ دہشت گردی قانون کا انتخابی نفاذ“ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کالعدم السٹر والنٹیر فورس کے حامیوں کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے بغیر کسی گرفتاری کے شمالی بیلفاسٹ میں ایک وفادار (loyalist) دیوار پر نقش و نگار (mural) کو دوبارہ پینٹ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ ”اسی قانون کے تحت کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم فلسطین ایکشن کسی ایک بھی موت کی ذمہ دار نہیں ہے اور اس نے کبھی کسی انسان کے خلاف تشدد کے استعمال کی وکالت نہیں کی ہے۔“
رونی اس گروپ کی پہلی نمایاں ڈونر نہیں ہیں۔ امریکی وارث جیمز ”فرگی“ چیمبرز نے ۲۰۲۳ء میں کہا تھا کہ وہ اس کے قانونی اخراجات ادا کر رہے ہیں۔