• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلوی پولیس کا اعتراف: ہرزوگ کے دورے کے دوران اجازت کے باوجود نمازیوں کے ساتھ زبردستی کی گئی

Updated: February 13, 2026, 7:02 PM IST | Sydney

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو نماز میں مصروف مسلمانوں کو زبردستی گھسیٹ کر لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ این ایس ڈبلیو پولیس کی اس کارروائی پر کمیونٹی لیڈران اور سیاست دانوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

آسٹریلیا کے صوبے نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) کی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ ایک سینئر افسر نے مسلمان نمازیوں کے ایک گروپ کو اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورے کے خلاف احتجاج کے دوران نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی، اس کے باوجود منظرِ عام پر آنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو نمازیوں کو سڈنی کے ٹاؤن ہال اسکوائر سے بری طرح گھسیٹتے اور زبردستی ہٹاتے ہوئے نظر آئے۔

جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں، نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے تصدیق کی کہ ایک سینئر افسر نے پیر کی شام اس گروپ کو نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ ”این ایس ڈبلیو پولیس فورس کے علم میں اب یہ بات آئی ہے کہ ایک سینئر پولیس افسر نے مسلمان مظاہرین کے ایک گروپ کو ٹاؤن ہال اسکوائر پر نماز جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔“ 

بیان میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ افسر اس فیصلے کو ان دیگر اہلکاروں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا جو نمازیوں کو وہاں سے ہٹنے کے احکامات جاری کر رہے تھے۔ پولیس اہلکاروں کے بقول صورتحال ”انتہائی شور شرابے والی، متحرک اور تیزی سے بدل رہی تھی۔“

یہ بھی پڑھئے: سڈنی میں اسرائیلی صدر ہرزوگ کے خلاف مظاہروں کے دوران پولیس نےنمازیوں کو جبراً منتشر کیا

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار نماز میں مصروف مسلمانوں کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے ہٹا رہے تھے۔ این ایس ڈبلیو پولیس کی اس کارروائی پر کمیونٹی لیڈران اور سیاست دانوں نے شدید تنقید کی تھی۔

این ایس ڈبلیو پولیس کمشنر میل لینیون نے ”مذہبی عمل میں مداخلت کی وجہ سے پہنچنے والی کسی بھی دل آزاری پر معذرت کا اظہار کیا۔“ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کارروائی کا مقصد کسی خاص مذہب کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی صدر ہرزوگ کے دورے کی مخالفت میں منعقد کیے گئے اس احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔ اس دوران متعدد مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔

لبنانی مسلم ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جمال خیر نے مطالبہ کیا کہ کمشنر اور این ایس ڈبلیو کے پریمیئر کرس منز مین اسٹریم میڈیا پلیٹ فارمز پر باضابطہ معذرت کریں۔ آزاد رکنِ پارلیمنٹ الیگرا اسپینڈر نے بھی پولیس کے اس ردِعمل پر آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ”عوامی اعتماد بحال کرنے“ کے لیے یہ ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز کر نے کا خدشہ

آسٹریلین نیشنل امام کونسل نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ”تکلیف دہ، انتہائی تشویشناک اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول“ قرار دیا ہے۔ اسلامو فوبیا کے لیے آسٹریلیا کے خصوصی ایلچی، آفتاب ملک نے نمازیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا اور پریمیئر سے کہا ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی سے عوامی سطح پر معذرت کریں۔ 

پریمیئر کرس منز نے پولیس اہلکاروں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ”مسلسل احتجاج کمیونٹی کے اتحاد کے لیے خطرہ ہیں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK