• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سڈنی میں اسرائیلی صدر ہرزوگ کے خلاف مظاہروں کے دوران پولیس نےنمازیوں کو جبراً منتشر کیا

Updated: February 10, 2026, 10:00 PM IST | Sydney

سڈنی میں اسرائیلی صدر ہرزوگ کے خلاف مظاہروں کے دوران پولیس نےمحو نماز مسلمانوں کو جبراً منتشر کیا ، جس کے بعداسلامو فوبیا کے خصوصی نمائندے نے پولیس کے ذریعے کی گئی اس جبر ی کارروائی کی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔

A scene from a protest against the Israeli president`s visit to Australia. Photo: X
آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر کے دورے کے خلاف احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

مقامی میڈیا کی منگل کی خبروں کے مطابق، آسٹریلیا کے اسلاموفوبیا کے خصوصی نمائندے نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورے کے خلاف سڈنی میں منگل کو منعقدہ احتجاجی ریلی کے دوران پولیس کے ذریعے طاقت کے استعمال اور نمازیوں کو جبراً ہٹانے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ایس بی ایس نیوز کے مطابق، خصوصی ایلچی افتخار ملک نے نیو ساؤتھ ویلز کےسربراہ کرس منز سے بھی مسلمان معاشرےسے عوامی معذرت کرنے کی اپیل کی ہے۔ملک نے کہا، ’’دنیا میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جو پولیس کو اس بات کی اجازت دے سکتی کہ وہ خاموش، نہتے اور پرامن طریقے سے نماز پڑھنے والے نمازیوںکو منتشر کرے، انہیں مارے، پکڑے اور کنکریٹ پر پھینکے۔‘‘انہوں نے خبردار کیا کہ پولیس کی جانب سے اس شرمناک فعل کو تسلیم نہ کرنے سے مسلمان معاشرے کے ساتھ تعلقات کو دیرپا نقصان پہنچے گا۔بعد ازاں انہوں نے کہا، ’’پولیس کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جو کچھ ہوا وہ بلااشتعال، غیر ضروری اور غیر متناسب تھا، اور اگر وہ اس غلطی کو تسلیم کر کے، ندامت کا اظہار نہیں کرتے، تو اس سے مسلمانوں اور نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے درمیان تعلقات ناقابل مرمت طور پر خراب ہوجائیں گے۔‘‘

 


دریں اثناء

وزیراعظم انتھونی البانیزی نے منگل کو پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے پولیس کے تشدد کو ’’تباہ کن‘‘ قرار دیا۔پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے، جہاں حزب اختلاف کے گرینز نے اسرائیلی صدر کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا، البانیزی نے کہا، ’’ہم نے کل رات جو تشدد دیکھا وہ تباہ کن تھا، اور مجھے پتہ ہے کہ تمام آسٹریلوی ان مناظر سے بہت پریشان ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ’’ نیو ساؤتھ ویلز پولیس واقعے کے فوٹیج کا جائزہ لے گی، خاص طور پر ان نمازیوں کے بارے میں جو طاقت کے استعمال کے وقت نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘
واضح رہے کہ منگل کے احتجاج کے آن لائن گردش کرنے والے فوٹیج میں نیو ساؤتھ ویلز پولیس کو مسلمان نمازیوں کو جبراً ہٹاتے اور انہیں گھسیٹتے دکھایا گیا ہے جبکہ وہ نماز ادا کر رہے تھے۔اس واقعے نے وسیع پیمانے پر مذمت  کی جارہی  ہے، جس میں آسٹریلوی نیشنل امام کونسل بھی شامل ہے، جس نے پولیس کی کارروائیوں کو ’’حیران کن، انتہائی پریشان کن اور مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔یاد رہے کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب ہزاروں مظاہرین ہرزوگ کے دورےکے خلاف آسٹریلیا بھر میں سڑکوں پر نکل آئے۔بعد ازاں ہرزوگ آسٹریلیا کے سرکاری دورے پر ہیں اور انہیں سڈنی میں آمد کے بعد سے بھاری سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، جس میں پولیس، اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار اور اسنائپرز شامل ہیں، جہاں انہوں نے دسمبر میں بانڈی دہشتگرد حملے کے بعد یہودی سماج کے لیڈروں سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول مزید سخت کرنے کا الزام

ذہین نشین رہے کہ گزشتہ سال، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی غزہ کی جنگ کی خصوصی تحقیقاتی کمیشن نے کہا تھا کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے اور ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے حماس حملے کے بعد ہرزوگ کے فلسطین مخالف بیانات کو نسل کشی کی ارادے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK