اکتوبر۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیلی حملوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی میں ۱۰؍ فیصد سے زائد کی کمی آچکی ہے۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 11:23 AM IST | Genoa
اکتوبر۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیلی حملوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی میں ۱۰؍ فیصد سے زائد کی کمی آچکی ہے۔
جنیوا اکیڈمی برائے بین الاقوامی انسانی قانون نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ غزہ میں شہداء کی کل تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ اندازہ ان رپورٹس کی بنیاد پر لگایا گیا ہے جن کے مطابق اکتوبر۲۰۲۳ء سے جاری مسلسل فوجی کارروائیوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی میں ۱۰؍ فیصد سے زائد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ اکیڈمی میں بین الاقوامی انسانی قانون کے پروجیکٹ کے سربراہ سٹیوارٹ کیسی ماسلن نے وضاحت کی کہ اب تک سامنے آنے والے اعداد و شمار انسانی جانوں کے ضیاع کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد تاحال ملبے تلے دبی ہوئی ہے جن کی لاشیں اب تک نہیں نکالی جا سکیں اور نہ ہی انہیں سرکاری طور پر دستاویزی شکل دی جا سکی ہے۔ ماسلن نے مزید کہا کہ آبادی میں یہ نمایاں کمی انسانی المیے کی سنگینی کا خطرناک اشارہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش الیکشن۲۰۲۶ء: بی این پی کی دو تہائی اکثریت سے جیت، ہندوستان کی مبارکباد
انہوں نے تاکید کی کہ اگرچہ ان اندازوں کی آزادانہ تصدیق کی ضرورت ہے لیکن اگر یہ درست ثابت ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ جانی نقصان کی اصل شرح سرکاری طور پر اعلان کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے توجہ دلائی کہ بنیادی ڈھانچے، گھروں اور اہم تنصیبات کی ہولناک تباہی کو مدنظر رکھتے ہوئے قطاع غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے برسوں کی مسلسل محنت اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ سیز فائر معاہدے کے باوجود غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ خوراک، پانی، پناہ گاہوں اور طبی سہولتوں کی شدید قلت کے باعث انسانی صورتحال کے مزید ابتر ہونے کی وارننگز دی جا رہی ہیں اور مقامی آبادی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے مسلسل تڑپ رہی ہے۔ دوسری جانب غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ءسے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد ۷۲؍ ہزار۴۵؍ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار۶۸۶؍ تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت کے مطابق گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں ۸؍ شہداء لائے گئے جن میں سے ۳؍ کو ملبے تلے سے نکالا گیا تھا، اس کے علاوہ ۲۰؍ زخمی بھی ہسپتال پہنچے۔ وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ءسے نافذ العمل سیز فائر معاہدے کی قابض اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہداء کی تعداد ۵۹۱؍ اور زخمیوں کی تعداد ۱۵۷۸؍ ہو گئی ہے۔