رکشا ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ’’ایل پی جی گیس آسانی سے دستیاب نہیں اور اگر ملتی بھی ہے تو مہنگی ملتی ہے، ایسے میں روزگار کیسے چلے گا؟‘‘بیشتر نے مطالبہ کیا ہے کہ ’’گیس کی قیمتوں میں اضافہ فوراً واپس لیا جائے‘‘
EPAPER
Updated: March 30, 2026, 11:26 PM IST | Aurangabad
رکشا ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ’’ایل پی جی گیس آسانی سے دستیاب نہیں اور اگر ملتی بھی ہے تو مہنگی ملتی ہے، ایسے میں روزگار کیسے چلے گا؟‘‘بیشتر نے مطالبہ کیا ہے کہ ’’گیس کی قیمتوں میں اضافہ فوراً واپس لیا جائے‘‘
خلیجی ممالک میں ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے سبب ہندوستان میں گیس کی قلت سے ایک سنگین بحران پیدا ہوگیاہے ۔اورنگ آباد شہر میں بھی آٹو ایل پی جی گیس کی قلت کے سبب آٹو رکشا ڈرائیوروں نے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔
رکشا ڈرائیوروں کی ہڑتال ، مسافر پریشان
اچانک رکشا سروس بند ہونے سے روزمرہ سفر کے لئے آٹورکشا پر انحصار کرنے والے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق آٹو رکشا ڈرائیوروں نے گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف شہر میں احتجاجی ریلی بھی نکالی ہے۔ ریلی کے دوران’’گیس فراہم کرو، قیمتوں میں اضافہ واپس لو‘‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے نکلنے والی اس ریلی کے سبب کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے۔
آٹو رکشا ڈرائیوروں کا مطالبہ کیا ہے؟
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ’’ایل پی جی گیس نہ تو آسانی سے دستیاب ہے اور اگر ملتی بھی ہے تو مہنگی ہو چکی ہے، ایسے میں روزگار کیسے چلائیں؟‘‘ جبکہ ایک مسافر نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ’’آٹو رکشا نہ ملنے کی وجہ سے شدید پریشانی ہو رہی ہے اور کوئی متبادل سہولت بھی موجود نہیں ہے۔‘‘
رکشا ڈرائیوروں کے مطابق گیس کے حصول کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑا رہنا پڑتا ہے، جس سے روزانہ کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور اسی لیے ہڑتال کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔شہر میں آٹورکشوں کی مجموعی تعداد تقریباً۲۵؍ ہزار ہے، جن میں سے۱۰؍ہزار ۵۲۶؍رکشے صرف پیٹرول پر،۹؍ہزار۵۰۰؍ ایل پی جی اور پیٹرول دونوں پر، ۳؍ ہزار۸۸۱؍ صرف ایل پی جی پر جبکہ ایک ہزار۹۶؍ سی این جی پر چلتے ہیں۔
گیس سپلائی کے متعلق ضلع انتظامیہ نے کیا کہا؟
اس معاملے میں ضلعی سپلائی افسر پروین پھلاری نے بتایا کہ شہر کے تمام ایل پی جی پمپوں پر گیس ختم ہو چکی ہے اور آئندہ دو دن تک سپلائی بحال ہونے کا امکان نہیں ہے۔اس معاملے پر رکشا ڈرائیوروں کی ایک اہم میٹنگ شیوسینا ٹھاکرے گروپ کے لیڈر امباداس دانوے کے دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں انتباہ دیا گیا کہ اگر دو دن میں مسئلہ حل نہ ہوا تو’چکا جام‘ تحریک شروع کی جائے گی۔ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ گیس دستیاب ہونے پر پمپ۲۴؍ گھنٹے کھلے رکھے جائیں اور ایندھن کی باقاعدہ رسید فراہم کی جائے۔
نگراں وزیر حکام پر برہم
نگراں وزیر سنجے شرساٹ نے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پمپ این او سی کے تحت چل رہے ہیں تو پھر عوام کو اس طرح کی پریشانی کیوں ہو رہی ہے، اور اگر ضابطوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو فوری کارروائی کی جائے۔شدید گرمی کے دوران رکشا سروس بند ہونے سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ بس اسٹینڈز پر غیر معمولی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے اور بسیں مکمل بھر جانے کے باعث کئی مسافروں کو کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ کچھ افراد کو بس بھی دستیاب نہیں ہو رہی۔اب سب کی نظریں انتظامیہ پر مرکوز ہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے کا کیا حل نکالتی ہے۔