Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقلیتی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کیلئے ٹی ای ٹی لازمی نہیں : ہائی کورٹ

Updated: May 13, 2026, 11:21 AM IST | Z A Khan | Aurangabad

ٹی ای ٹی نہ کرنے پر تقرری مسترد کرنے والے افسران کی سخت سرزنش کی ۔ ایسی غلطیاں دہرانے پر کارروائی کا انتباہ دیا۔

TET Paper.Photo:INN
ٹی ای ٹی ۔ تصویر:آئی این این
 بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کیلئے ٹیچر الیجبلیٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) لازمی نہیں ہے۔ عدالت نے اقلیتی اسکولوں میں اساتذہ کے تقرر کی منظوری صرف ٹی ای ٹی پاس نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کرنے پر ایجوکیشن افسران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر آئندہ ایسی غلطیاں دہرائی گئیں تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ 
 
 
جسٹس وبھا کنکنواڑی اور جسٹس اجیت بی کاڈےٹھانکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مہاراشٹر کے اقلیتی اداروں  کے اساتذہ کو بڑی راحت دیتے ہوئے ۳؍ الگ الگ رٹ درخواستوں کو جزوی طور پر منظور کر لیا اور شکشن سیوک کے طور پر مقرر اساتذہ کی منظوری مسترد کرنے والے تعلیمی افسران کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ عرضیاں سید ابوزید سید رفیق اور ایک دیگر درخواست گزار گائیکواڑ سیالی وینکٹیش اور سائناتھ گنپت بانسوڈے کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ ان تمام معاملات میں محکمہ تعلیم نے اس بنیاد پر تقرریوں کی منظوری دینے سے انکار کیا تھا کہ متعلقہ اساتذہ نے ٹی ای ٹی امتحان پاس نہیں کیا تھا۔ عدالت میں سید ابو زید اور دیگر کی جانب سے ایڈوکیٹ سید توصیف یاسین، سائلی وینکٹیش گائیکواڑ کی جانب سے ایڈوکیٹ شیخ طارق مبین ایچ جبکہ سائناتھ گنپت بنسوڈے کی جانب سے ایڈوکیٹ کے پی روڈگے نے پیروی کی۔ 
 
 
سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے یہ موقف اختیار کیا کہ متعلقہ اسکول اقلیتی ادارے ہیں  اس لئے ان پر ٹی ای ٹی کی شرط اسی طرح نافذ نہیں کی جا سکتی جیسے غیر اقلیتی اسکولوں پر نافذ کی جاتی ہے۔ درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے مقدمہ ’انجمن اشاعت تعلیم ٹرسٹ بنام ریاست مہاراشٹر و دیگر‘ کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں اقلیتی اداروں پر ٹی ای ٹی کے اطلاق ہونے کے سوال کو حتمی فیصلہ کیلئے بڑی بنچ کے سپرد کیا گیا ہے۔  درخواست گزاروں نے بامبے ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے ’سریکا مادھوراؤ شندے بنام ریاست مہاراشٹر و دیگر‘ کا بھی حوالہ دیا جس میں اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو اسی نوعیت کی راحت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ چونکہ اقلیتی تعلیمی اداروں پر ٹی ای ٹی کا اطلاق ہونے کا قانونی معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اس لئے تعلیمی افسران کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ صرف ٹی ای ٹی پاس نہ ہونے کی بنیاد پر تقرری کی منظوری کی درخواستیں میکانکی انداز میں مسترد کریں۔  عدالت نے ایجوکشن افسران کے رویے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی عدالت کی تنبیہ کے باوجود افسران اسی طرح کے غلط احکامات جاری کرتے رہے ہیں۔ عدالت نے۱۶؍ اپریل۲۰۲۶ء،۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء اور ۲۵؍ مارچ ۲۰۲۵ء کے مسترد شدہ احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے متعلقہ تعلیمی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ۱۵؍ دن کے اندر اساتذہ کی تقرری سے متعلق تجاویز دوبارہ محکمہ تعلیم کو پیش کریں ساتھ ہی عدالت نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا ہے کہ ٹی ای ٹی کی شرط عائد کئے بغیر ایک ماہ کے اندر ان تجاویز پر قانونی فیصلہ کیا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK