Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول خریدنے کیلئے’ سات بارہ‘ ہونا ضروری؟

Updated: May 23, 2026, 12:38 AM IST | Aurangabad

ریاست کے دیہی علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے برابر، پربھنی میں کسانوں سے سات بارہ مانگا جا رہا ہے

This is not a queue for water in a trick, but a queue at the pump for petrol and diesel.
یہ کسی چال میں لگی پانی کی قطار نہیں بلکہ پیٹرول اور ڈیزل کیلئے پمپ پر لگی ہوئی قطار ہے

ایک طرف حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ ریاست میں پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے دوسری طرف ریاست کے دیہی علاقوں میں حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ پیٹرول پمپ کے مالکان کسانوں سے کہہ رہے ہیں کہ اگر پیٹرول یا ڈیزل چاہئے تو زمین کا سات بارہ (وہ نقشہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کا مالک کون ہے ) دکھائو۔ خاص کر پربھنی ضلع میں اس طرح کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 
 یاد رہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کے سبب شہری علاقوں سے زیادہ دیہی علاقوں کے لوگوں کو پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ عام طور پر کسانوں کو کاشتکاری کیلئے موٹر اور ٹیوب ویل وغیرہ چلانے کیلئے ڈیزل درکار ہوتا ہے ۔ ادھر پیٹرول پمپ پر ڈیزل دستیاب نہ ہونے سے کسانوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حد تو تب ہو گئی جب پربھنی ضلع میں کچھ پیٹرول پم  کے مالکان نے ان کسانوں سے کہا کہ ڈیزل یا پیٹرول اسی کو ملے گا جب وہ اپنی زمین کا سا ت بارہ دکھائیں گے۔ اس کی وجہ سے کسانوں میں سخت ناراضگی ہے۔ یاد رہے کہ پربھنی میں مسلسل ۷؍ دنوں سے ایندھن کی قلت ہے۔ کئی پمپ بند ہیں تو بیشتر مقامات پر ’نو اسٹاک‘ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ یہ مسئلہ ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے کہ کچھ پیٹرول پمپ مالکان نے یہ نیا فرمان جاری کیا ہے جس پر ہر کوئی حیران ہے۔ 
 ودربھ کے بلڈانہ ضلع میں اور زیادہ حالت خراب نظر آ رہی ہے۔ یہاں پیٹرول پمپ کے آگے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ ان میں کسانوں کے ٹریکٹروں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ ایک ویڈیو بلڈانہ کا سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں لوگ اپنے ہاتھو میں ڈبے اور کین لئے پیٹرول پمپ کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں صرف اس لئے کہ قطار میں ان کا نمبر آگے لگ جائے۔ اسی طرح کی صورتحال ودربھ کے واشم ضلع میں بھی ہے۔ یہاں آئل ٹینکر کے پیٹرول پمپ پر پہنچتے ہی کسان اور دیگر افراد پمپ کی طرف دوڑ پڑے ۔ دکاندار نے قطار لگوائی لیکن کچھ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیٹرول تقسیم (فروخت) نہیں کیا جا سکا۔ تکنیکی خامی دور کرتے کرتے  شام سے صبح ہوگئی ۔ حیرانی کی بات یہ ہے لوگ رات بھر کھڑے پیٹرول کی فروخت شروع ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ 
  اورنگ آباد ضلع میں بھی کسان پیٹرول پمپ پر بھیڑ لگا رہے ہیں۔ یہاں سلوڈ تعلقے میں واقع ایک پیٹرول پمپ پر بھیڑ کی وجہ سے ہنگامے جیسے صورتحال پیدا ہو گئی۔لوگ آپس میں دھکامکی کرنے لگے جس کی وجہ سے ہاتھا پائی کی نوبت آ گئی لیکن کسی طرح بھیڑ کو قابو میں کیا گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اکولہ کے ایک پیٹرول پمپ پر بھیڑ میں سے کچھ لوگوں نے پیٹرول پمپ والوں پر حملہ کر دیا تھا کیونکہ پیٹرول دینے کے بجائے اس نے قطار میں کھڑے لوگوں کو ڈانٹ دیا تھا۔ حالانکہ مقامی سطح پر بھی حکام یہی کہہ رہے ہیں کہ ان کے ضلع میں پیٹرول ڈیزل کا بھرپور ذخیرہ ہے لیکن لوگ ڈر کے مارے زائد پیٹرول خرید رہے ہیں اس کی وجہ سے پیٹرول پمپ پر پیٹرول ختم ہو جاتا ہے اور قلت دکھائی دیتی ہے۔
  اس دوران ایک ٹی وی چینل نے جب وزیر زراعت دتاتریہ بھرنے کو جب پربھنی میں کسانوں سے سات بارہ مانگنے پر سوال کیا تو انہوں نے ناراضگی ظاہر کی اور کہا میں ضلع کلکٹر سے بات کرتا ہوں۔ کسانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی نے اس طرح کی حرکت کی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ 

aurangabad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK