• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوریگائوں میں وویک ودیالیہ اینڈجونیئر کالج میں برقع اور کرتا پاجامہ پہننے پرپابندی

Updated: November 30, 2025, 11:43 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

وکیل اور ایم آئی ایم مہیلا یونٹ کی صدر نے پولیس کو خط دے کر مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دی۔ طالبات سےاچانک کہا گیا کہ یہاںبر قع پہننے کی اجازت نہیں۔

Students are seen outside Vivek Vidyalaya and Junior College. Picture: Inquilab
وویک ودیالیہ اینڈ جونیئر کالج کے باہر طلبہ نظر آرہے ہیں۔ تصویر:انقلاب
مضافات کے گوریگائوں میں واقع ’وویک ودیالیہ اینڈ جونیئر کالج‘ کی چند طالبات نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے کالج میں طالبات کے برقع پہننے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ متاثرہ طالبات اے آئی ایم آئی ایم کی ممبر اور وکیل کی مدد سے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔
اس کالج کی گیارہویں جماعت کی ایک طالبہ نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، ’’کالج میں داخلے کے وقت ہمیں کالج میں برقع پر پابندی کے تعلق سے کچھ نہیں بتایا گیا تھا لیکن جب ہم کلاس میں بیٹھ گئے تب ٹیچر نے ہمیں ڈانٹنا شروع کردیا کہ کیا آپ لوگوں کو یہاں کے اصول پتہ نہیں ہیں؟ آپ کالج میں برقع نہیں پہن سکتے اور اگر یہ شرط منظور نہیں ہے تو اپنا داخلہ منسوخ کروالو۔‘‘  اس طالبہ نے مزید بتایا کہ ’’ابتداء سے ہم لوگ بغیر برقع پہنے کالج جانے پر مجبور ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال انہوں نے اس سلسلے میں وکیل سے رابطہ قائم کیا ہے۔
ایڈوکیٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی ممبئی مہیلا یونٹ کی صدر جہاں آراء شیخ نے انقلاب سے گفتگو کے دوران بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل چند طالبات نے ان سے رابطہ قائم کرکے یہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ اس سال سے کالج میں برقع پہننے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ اس تعلق سے انہوں نے چند روز قبل کالج کی پرنسپل سے ملاقات کی کوشش کی تھی تب وائس پرنسپل سے ان کی بات کرائی گئی تھی اور وہ برقع پر پابندی کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتا سکیں اور مبہم باتیں کرتی رہیں۔
  ایڈوکیٹ جہاں آراء کے مطابق ’’جب ہم نے نشاندہی کی کہ آپ کے پروسپیکٹس میں ایسی کوئی بات نہیں درج ہے تو اگلے ہی روز برقع اور کرتا پاجامہ پہننے پر پابندی کی بات پروسپیکٹس میں شامل کردی گئی۔‘‘ انہیں دوسرے روز آکر پرنسپل سے ملاقات کرنے کو کہا گیا تھا لیکن دوسرے روز انہیں کالج میں داخل ہونے ہی نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق یہاں لڑکیوں کے برقع کے ساتھ لڑکوں کے کرتا پا جامہ پہننے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
انہوں نے اس تعلق سے گوریگائوں پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر سوریہ کانت کھرات سے ملاقات کرکے تحریری شکایت دی ہے اور انہوں نے اس مسئلہ پر کالج انتظامیہ سے گفتگو کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سینئر انسپکٹر کو دیئے گئے خط میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر پیر تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو ایم آئی ایم اس تعلق سے کالج کے باہر احتجاج کرے گی۔
اس نمائندے نے کالج میں جاکر کالج کی پرنسپل شیجا مینن سےملاقات کی کوشش کی لیکن بتایا گیا کہ وہ سنیچر کو جلدی چلی گئیں۔ ان سے فون پر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا فون بند تھا۔اس نمائندے نے گوریگائوں پولیس اسٹیشن جاکر سینئر انسپکٹر سوریہ کانت کھرات سے ملاقات کی کوشش کی لیکن وہاں موجود حوالدار نے بتایا کہ وہ سنیچر کو صبح سے پولیس اسٹیشن نہیں آئے ہیں۔ 
سینئر انسپکٹر سے بھی موبائل فون پر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے فون کا جواب نہیں دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK