اڈانی ہتک عزت معاملے میں صحافی روی نائر کو ضمانت مل گئی، ساتھ ہی سزا ایک ماہ کیلئے معطل کردی گئی،سزا کی معطلی سے انہیں ایک ماہ کے اندر سیشن عدالت میں اپیل دائر کرنے کی اجازت مل گئی۔
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 4:02 PM IST | Gandhinagar
اڈانی ہتک عزت معاملے میں صحافی روی نائر کو ضمانت مل گئی، ساتھ ہی سزا ایک ماہ کیلئے معطل کردی گئی،سزا کی معطلی سے انہیں ایک ماہ کے اندر سیشن عدالت میں اپیل دائر کرنے کی اجازت مل گئی۔
صحافی روی نائر کو جمعہ کو اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی پوسٹسکے خلاف دائر کردہ ہتک عزت کے مقدمے میں ضمانت مل گئی۔ گجرات کے گاندھی نگر کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے ان کی ایک سال قید کی سزا بھی ایک ماہ کے لیے معطل کر دی۔اس سے قبل عدالت نے منگل کو نائر کو مجرم قرار دیتے ہوئے۵۰۰۰؍ روپے جرمانے کے ساتھ ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں سزا کی معطلی سے انہیں ایک ماہ کے اندر سیشن عدالت میں اپیل دائر کرنے کی اجازت مل گئی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی یونیورسٹی میں مؤرخ عرفان حبیب پر پانی سےبھری بالٹی پھینکی گئی
واضح رہے کہ یہ معاملہاکتوبر۲۰۲۰ء سے جولائی۲۰۲۱ء کے درمیان نائر کی اڈانی گروپ کے بارے میں سوشل میڈیا پوسٹ کے متعلق تھا، جس میں امریکی شارٹ سیلر ہنڈنبرگ ریسرچ کے الزامات اور جواہر لعل نہرو پورٹ ٹرسٹ کی مجوزہ نجکاری کے خلاف تحریریں شامل تھی۔یہ مقدمہ صنعت کار گوتم اڈانی کے اڈانی گروپ کی مرکزی کمپنی اڈانی انٹرپرائزز کی شکایت پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ نائر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جھوٹے اور توہین آمیز بیانات پر مشتمل پوسٹ کی ایک سیریز شائع کرکے پھیلائی، جس کا مقصد اڈانی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔کمپنی نے الزام لگایا کہ نائر کی پوسٹ منصفانہ تبصرہ یا جائز تنقید پر مبنی نہیں تھیں بلکہ عوام اور سرمایہ کاروں کی نظر میں فرم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے بنائی گئی تھیں۔تاہم منگل کو عدالت نے روی کو مجرم قرار دیا ثابت ہوا تھا۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ یہ معاملہ سمَن کیس کے طور پر قابلِ سماعت تھا اور اس لیے سزا پرعلاحدہ سماعت کی ضرورت نہیں تھی۔دریں اثناء مجسٹریٹ نے کہا کہ نائر سے بطور صحافی اور عوامی مبصر، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دیے گئے بیانات کی رسائی اور اثرات سے آگاہ ہونے کی توقع کی جاتی تھی، خاص طور پر جب ایسے واضح الزامات لگائے جائیں جو ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔عدالت نے پروبیشن کا فائدہ دینے سے بھی انکار کر دیا، اور کہا کہ صحافی ایک بالغ فرد ہے جو اپنے اعمال کے نتائج سے واقف تھا۔ جج نے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں پروبیشن دینے سے قانون کے انسدادی اثر میں نرمی آئے گی اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والے معاملات میں غلط پیغام جائے گا۔بعد ازاںعدالت نے کہا کہ جرمانے کے ساتھ سادہ قید اس جرم کی سنگینی کو مناسب طور پر ظاہر کرے گی اور ضرورت سے زیادہ سخت بھی نہیں ہوگی۔