Inquilab Logo Happiest Places to Work

باندرہ :غریب نگر جھوپڑپٹی کے انہدام کوایک ماہ مکمل

Updated: June 19, 2026, 8:16 AM IST | Mumbai

متاثرین بازآبادکاری کیلئے کوشاںمگر اب تک عملی طور پرکوئی پیش رفت نہیںہوئی ۔ ریلوے نےسلاخوں کے ذریعے پوری زمین گھیر کر پہرہ بٹھادیا

The land of Garib Nagar has been surrounded by iron bars in this way. (Photo: Inqilabad)
غریب نگر کی زمین کو کچھ اس طرح سے لوہے کی سلاخوں سے گھیرا گیاہے ۔(تصویر: انقلاب)

 یہاںغریب نگر جھوپڑپٹی کے انہدام کو آج  ایک ماہ پورا ہوگیا۔۱۹؍مئی کی صبح زبردست لاؤ لشکر کے ساتھ ریلوے نے سیکڑوں مکینوں کو بے گھر کردیا تھا۔ انہدامی کارروائی ۵؍دن تک جاری  رہی۔ ریلوے نے لوہے کی سلاخوں کے ذریعے اس زمین کوگھیرلیا ہے اور وہاں پولیس کا پہرہ بٹھادیا ہے تاکہ پھرکوئی جھوپڑا نہ بناسکے۔ دوسری جانب مختلف تنظیمیں متاثرین کے کاغذات جمع کررہی ہیں۔ متاثرین اپنے طور پربھی کوشاں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ایک ماہ میں عملی طور پرکوئی پیش رفت نہیںہوسکی ہے۔
 باندرہ میںٹرین سے اترنے کےبعد غریب نگر سے گزرتے وقت اب یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ ایک ماہ قبل یہ پورا علاقہ آباد تھا، سیکڑوں خاندان آباد تھے ، روزی روٹی کےلئے مختلف اقسام کی اور اشیائے خورد ونوش کی دکانیں سجی رہا کرتی تھیں۔ بسااوقات شادی بیاہ کے موقع پرغریب لوگ ہا ل میںانتظام کرنےکے بجائے اسی حصے میں خالی زمین پرشادی یا دیگر تقریب کی رسم اداکرلیا کرتے تھے ۔ یہاں کی دو مساجد میں بندگان ِخدا اپنےخالق ومالک کی کبریائی بیان کیا کرتے تھے مگرسب کچھ اس طرح ختم کیا گیا کہ نشان تک باقی نہیں رہا۔البتہ ۱۰۰؍جھوپڑے جنہیںعدالت کی جانب سے قانونی قراردیا گیا تھا ،وہ ٹوٹی ہوئی چھتوں کےساتھ موجود ہیں۔ اس میں کچھ مکینوںنے بارش شروع ہونے کے پیش نظر احتیاطاً تال پتری باندھ دی ہے۔انہدامی کارروائی کے سبب باقی بچ  جانے والے جھوپڑوںمیں بھی مکینوں کارہنا آسان نہیں ہے۔ 
کس طرح کی کوشش کی جارہی ہے ؟
 انہدامی کارروائی کو ایک ماہ گزرنے کےدوران جماعت اسلامی کے عہدیداران برادرانِ وطن کی دیگر تنظیموں کےساتھ متاثرین کے کاغذات جمع کرنے کے لئے پہنچے تھے، ایم پی جے کی جانب سے بھی آواز بلند کی گئی تھی اورمیدھا پاٹکر کے ہمراہ میٹنگ کی گئی تھی اور یہ یقین دلایا گیاتھا کہ متاثرین کی راحت رسانی اور ان کی بازآبادکاری کےلئے کوشش کی جائے گی۔اس کے علاوہ مقامی ذمہ دار اشخاص بھی کوشاںہیں۔ 
 کوشش کرنے والوں میں شامل نوپاڑہ میں مقیم عبدالقدیر شیخ نے اس ضمن میں نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ’’ کاغذات جمع کرائے جارہے ہیں، اُن کےپاس اب تک ۱۰۰؍ متاثرین نے کاغذات جمع کرائے ہیں جبکہ بہت سے لوگوں کا ابھی بھی کاغذات جمع کراناباقی ہے۔‘‘ انہوںنے یہ بھی بتایاکہ’’۲۵؍ متاثرین نے ریلوے کے آناًفاناً  نوٹس اور انہدامی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ،سپریم کورٹ نےانہیں ہدایت دی کہ وہ ۶؍ماہ کےاندر مقامی انتظامیہ سے رجوع کریں ۔ان کےلئے یہ راحت کی بات ہے مگر دیگر متاثرین کو بھی انصاف ملے اوران کیلئے متبادل رہائش گاہ کی فراہمی آسان ہو،اس کی کوشش جاری ہے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’سچائی یہ ہے کہ اس ایک ماہ کے دوران کوشش کے باوجود کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیںہوا ہے ۔دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے ۔ ‘‘
ریلوےکے سینئرافسر کا جواب 
 ریلوے کے ایک سینئرافسر کے مطابق ریلوے کی جانب سے عدالت کے حکم پرانہدامی کارروائی کی گئی ہے اور ریلوے نے اپنی زمین سے ناجائزقبضہ ہٹاکر زمین اپنی تحویل میں لے لی ہے۔ خالی کرائی گئی زمین اس طرح گھیر دی گئی ہےکہ کوئی اب قبضہ کرنے کی ہمت نہیںکرسکتا۔ اس افسر کا یہ بھی جواب تھا کہ لوگوں کے کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیںہے لیکن یہ یاد رکھئے کہ جب ایک دفعہ کوئی آبادی ختم کردی جاتی ہے یا زمین خالی کرالی جاتی ہے توپھراس پربسنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، یہی غریب نگر جھوپڑپٹی کا بھی حال ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK