ہیری کین کی قیادت میں انگلینڈ نے کروشیا کو ۲۔۴؍گول سے شکست دی۔ اس مقابلے میں انگلینڈ کے نوجوان مڈفیلڈر جوڈ بیلنگہم نے ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 10:02 PM IST | New York
ہیری کین کی قیادت میں انگلینڈ نے کروشیا کو ۲۔۴؍گول سے شکست دی۔ اس مقابلے میں انگلینڈ کے نوجوان مڈفیلڈر جوڈ بیلنگہم نے ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا آغاز فتح کے ساتھ کیا ہے۔ ہیری کین کی قیادت میں انگلینڈ نے کروشیا کو ۲۔۴؍گول سے شکست دی۔ اس مقابلے میں انگلینڈ کے نوجوان مڈفیلڈر جوڈ بیلنگہم نے ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔گروپ ایل کے پہلے میچ میں کروشیا کے خلاف بیلنگہم کی کارکردگی شاندار رہی اور انہوں نے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بیلنگہم نے ایک گول بھی اسکور کیا۔ ۲۲؍ سالہ بیلنگہم اب چار بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس (۲؍ ورلڈ کپ اور ۲؍ یورو کپ) کھیلنے والے کم عمر ترین یورپی کھلاڑی بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اٹلی کو باہر کرنے والی بوسنیا کی توجہ اب سوئزرلینڈ پر مرکوز
انہوں نے اس معاملے میں جرمنی کے جمال موسیالا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس سے قبل وہ پہلی بار یورو ۲۰۲۰ء میں کسی بڑے ٹورنامنٹ میں شریک ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے قطر ورلڈ کپ ۲۰۲۲ء اور یورو ۲۰۲۴ء میں بھی حصہ لیا۔ اس فہرست میں انگلینڈ کے ایک اور کھلاڑی مائیکل اوون بھی شامل ہیں، جنہوں نے ۱۹۹۸ء اور ۲۰۰۲ء کے ورلڈ کپ کے ساتھ یورو ۲۰۰۰ء اور یورو ۲۰۰۴ء میں بھی شرکت کی تھی۔بیلنگہم انگلینڈ کے ان چند کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے بہت کم عمر میں بین الاقوامی فٹبال میں جگہ بنائی۔ انہوں نے صرف ۱۷؍سال اور۱۳۷؍ دن کی عمر میں انگلینڈ کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ انگلینڈ کی تاریخ میں ان سے کم عمر میں ڈیبیو کرنے والے صرف تھیو والکاٹ اور وین رونی ہیں۔ کروشیا کے خلاف میچ میں انگلینڈ نے شاندار کھیل پیش کیا۔ ہیری کین کے دو گولوں کے بعد دوسرے ہاف میں بیلنگہم اور مارکس راشفورڈ نے بھی گول کرکے ٹیم کی فتح یقینی بنا دی۔
یہ بھی پڑھئے:راجکمار ہیرانی نے ’’پی کے ‘‘ایلین کو مرکزی کردار میں کیوں منتخب کیا ؟
بیلنگہم نے کہا کہ وہ ایک بار پھر اپنے ملک کی نمائندگی کرکے فخر محسوس کر رہے ہیں۔ اب ان کا اگلا ہدف جلد از جلد اپنے ۵۰؍بین الاقوامی میچ مکمل کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا’’میری ٹیم اور میرے ملک کے لیے یہ میری ذمہ داری ہے کہ جب میں میدان میں اتروں تو اپنی پوری صلاحیت کا مظاہرہ کروں اور جب میرے سینے پر قومی نشان اور پشت پر نمبر ۱۰؍ہو تو میں اپنی ٹیم کے لیے سب کچھ دے دوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کے لیے ایک طویل اور تھکا دینے والا سیزن رہا ہے۔ اس دوران وہ کئی بار ٹیم کے کیمپ اور ٹریننگ سیشنز سے محروم رہے، جتنا وہ نہیں چاہتے تھے۔ تاہم انہیں خود پر اعتماد تھا کہ جب بھی بڑا موقع آئے گا وہ اپنی ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھائیں گے اور ذمہ داری سنبھالیں گے۔