بی جے پی کے حمایت یافتہ آزاد ا میدوار ناتھوانی کو۲۴؍ ووٹ اور کراس ووٹنگ کے ذریعے۴؍ ووٹ ملے،کانگریس کے پرنو جھا کو۱۹؍ ووٹ ملے،کانگریس کا آر جے ڈی اوربائیںبازو پر حمایت نہ کرنے کا الزام
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 11:32 PM IST
بی جے پی کے حمایت یافتہ آزاد ا میدوار ناتھوانی کو۲۴؍ ووٹ اور کراس ووٹنگ کے ذریعے۴؍ ووٹ ملے،کانگریس کے پرنو جھا کو۱۹؍ ووٹ ملے،کانگریس کا آر جے ڈی اوربائیںبازو پر حمایت نہ کرنے کا الزام
بی جے پی کی زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے جھارکھنڈ میں بھی انڈیا اتحاد کے گڑھ میں سیندھ لگا دی ہے۔ آزاد امیدوار پریمل ناتھوانی نے جنہیں بی جے پی کی حمایت حاصل تھی، راجیہ سبھا میں ریاست کی ۲؍ سیٹوں پر ہوئے ا نتخابات میں جیت حاصل کرلی ہے۔ انڈیا اتحاد میں شامل جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے امیدوار بیدیا ناتھ رام نے بھی جیت گئے۔کانگریس نے اس الیکشن میں پرنو جھا کو میدان میں اتارا تھا۔ نتھوانی کو۲۸؍ ووٹ ملے جبکہ کانگریس کے امیدوار پرنو جھا کو۱۹؍ اور جے ایم ایم کے امیدوار بیدیا ناتھ رام کو۳۱؍ ووٹ ملے۔ تین ووٹ باطل قرار پائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ راجیہ سبھا کے اس انتخابی نتائج سے جھارکھنڈ حکومت کے استحکام پر اثر پڑ سکتا ہے۔
مجموعی طورپر۱۲؍ ریاستوں میں راجیہ سبھا کی۲۶؍ سیٹوں کیلئے انتخابی عمل جمعرات کو ختم ہو گیا۔ ان میں سے، این ڈی اے نے۱۹؍، انڈیا بلاک نے۶؍ اور میزورم کی زورم پیپلز موومنٹ (زیڈ پی ایم)نے ایک سیٹ جیتی۔ اس الیکشن میں این ڈی اے اور انڈیا بلاک کو ایک ایک سیٹوں کا فائدہ ہوا ۔
جمعرات کو جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا کی دو اور میزورم کی ایک نشست کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ جھارکھنڈ میں، ایک سیٹ این ڈی اے کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار صنعتکار پریمل ناتھوانی اور دوسری سیٹ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے امیدوار بیدیا ناتھ رام نے جیتی ۔
کراس ووٹنگ
جھارکھنڈ میں پریمل ناتھوانی کی جیت کی وجہ کراس ووٹنگ رہی جبکہ تین ووٹوں کو باطل قرار دیا گیا۔ کانگریس نے آر جے ڈی اور بائیں بازو پر حمایت نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس دوران زیڈ پی ایم امیدوارلل ٹلو آنگ کیما نے میزورم میں ایک سیٹ جیت لی۔
جھارکھنڈ کے اعدادوشمار
جھارکھنڈ میں ۸۱؍ایم ایل اے تھے اور راجیہ سبھا کی سیٹ جیتنے کیلئے۲۸؍ایم ایل ایز کی حمایت درکار تھی۔ این ڈی اے کے پاس۲۴؍ ایم ایل اے تھے، جے ایم ایم-کانگریس اتحاد کے پاس۵۶؍ اور جے کے ایل ایم کے پاس ایک ایم ایل اے تھا۔جے ایم ایم کے امیدوار بیدیا ناتھ رام نے۳۱؍ ووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنی جیت یقینی بنائی۔دوسری سیٹ کیلئے این ڈی اے کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار پریمل ناتھوانی اور کانگریس کے پرنو جھا کے درمیان مقابلہ تھا۔ناتھوانی کو۳۰؍ ووٹ ملے جن میں سے ۲؍ کو باطل قرار دیا گیا۔ پرنو جھا نے ۲۰؍ووٹ حاصل کیے جن میں سے ایک کو کالعدم قرار دیا گیا۔ ناتھوانی کو این ڈی اے سے۲۴؍ ووٹ اور کراس ووٹنگ کے ذریعے۴؍ ووٹ ملے، اس طرح ان کی جیت ہوئی۔
۲۶؍ میں سے۲۳؍ سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب
۱۰؍ ریاستوں میں راجیہ سبھا کی۲۴؍ نشستوں کے لیے ان کی مدت پوری ہونے کے بعد انتخابات ہوئے۔ ان میں سے امیدواروں نے۸؍ریاستوں میں۲۱؍ سیٹوں پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کی جب کہ امیدوار زیادہ ہونے کی وجہ سے۲؍ ریاستوں (جھارکھنڈ اور میزورم) میں۳؍ سیٹوںکیلئے انتخابات ہوئے۔مہاراشٹر اور تمل ناڈو میں ایک ایک سیٹ کیلئے ضمنی انتخابات ہوئے امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔میزورم کی حکمراں زورم پیپلز موومنٹ کا کوئی رکن پارلیمنٹ پہلی بار راجیہ سبھا پہنچا ہے۔
لل ٹلو آنگ کیمانے ریاست کی واحد راجیہ سبھا سیٹ جیتی ہے۔ کیما نے۳۶؍ میں سے۲۶؍ووٹ حاصل کئے جب کہ اپوزیشن میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) کے امیدوار زوتھانسانگی ہمار کو۱۰؍ ووٹ ملے۔
۲۰۱۷ء میں تشکیل پائی زیڈ پی ایم کیلئے بڑی کامیابی
دو بی جے پی اور ایک کانگریس ایم ایل اے نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جب کہ ایک زیڈ پی ایم ایم ایل اے علالت کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈال سکے۔۲۰۱۷ء میں تشکیل پانے والی زیڈ پی ایم کیلئے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ کیما پارٹی کے پہلے راجیہ سبھا رکن بنے۔ وہ۱۹۷۲ء سے راجیہ سبھا میں پہنچنے والے میزورم سے آٹھویں لیڈر ہیں۔ ریاست میں اسمبلی کی۴۰؍ سیٹیں ہیں۔