ہندوستانی بینکوں نے قرض کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے زیادہ فنڈز دستیاب کرانے کے مقصد سے ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی ) سے لیکویڈیٹی کے قوانین میں نرمی کی درخواست کی ہے۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 2:00 PM IST | Mumbai
ہندوستانی بینکوں نے قرض کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے زیادہ فنڈز دستیاب کرانے کے مقصد سے ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی ) سے لیکویڈیٹی کے قوانین میں نرمی کی درخواست کی ہے۔
ہندوستانی بینکوں نے قرض کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے زیادہ فنڈز دستیاب کرانے کے مقصد سے ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی ) سے لیکویڈیٹی کے قوانین میں نرمی کی درخواست کی ہے۔ یہ معلومات خبر رساں ایجنسی بلومبرگ نے بینکنگ سیکٹر سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، بینکوں میں جمع رقم کے مقابلے میں قرض کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے فنڈنگ پر دباؤ بنا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بینکوں نے آر بی آئی سے اس نقدی کے ایک حصے کو استعمال کرنے کی اجازت مانگی ہے جو انہیں قلیل مدتی مالی دباؤ کی صورت میں مرکزی بینک کے پاس رکھنی ہوتی ہے۔ اس معاملے پر گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آر بی آئی اور کئی بینکوں کے درمیان ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
بڑھتی ہوئی کریڈٹ مانگ سے بینکوں پر دباؤ
ان بات چیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشت، ہندوستان میں قرض کی بڑھتی مانگ کو برقرار رکھنا بینکوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ گھریلو بچتیں شیئر بازار کی طرف جا رہی ہیں، جس کے باعث بینکوں میں جمع ہونے والے روایتی فنڈز کم ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اگر نقدی ریزرو تناسب (سی آر آر ) کے تحت رکھی گئی بڑی رقم کو لیکویڈیٹی کوریج ریشو (ایل سی آر ) کے حساب میں شامل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تو بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے زیادہ فنڈز دستیاب ہوں گے اور قرض کی لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں بچت کی مضبوط اور قدیم روایت : مکیش امبانی
لیکویڈیٹی قوانین کے جلد نفاذ کا مطالبہ
اس کے علاوہ، بینکوں نے آر بی آئی سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ نظرثانی شدہ لیکویڈیٹی قوانین کو مقررہ وقت سے پہلے نافذ کرنے پر غور کیا جائے۔ ان قوانین کے تحت بینکوں کو سرکاری بونڈز کم رکھنے کی اجازت ملے گی، جس سے قرض دینے کے لیے مزید نقدی دستیاب ہو سکے گی۔ ذرائع کے مطابق، یہ نئے قوانین یکم اپریل سے نافذ ہونے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بینک چاہتے ہیں کہ آر بی آئی انفراسٹرکچر بونڈز کی کم از کم میعاد کو سات سال سے کم کرے۔ اس سے بینکوں کو ان بونڈز کے ذریعے زیادہ فنڈز اکٹھا کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے:آخری میچ میں بھی سری لنکا شکست سے دوچار،انگلینڈ کا کلین سویپ
جمع کے مقابلے میں تیز قرض کی شرح
مرکزی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق،۱۵؍ جنوری تک سالانہ بنیاد پر بینکوں کی جمع میں۶ء۱۰؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت میں قرض کی شرح نمو ۱ء۱۳؍فیصد رہی۔ وہیں، بینکوں کی جانب سے قلیل مدتی فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے تین ماہ کے سرٹیفکیٹ آف ڈپازٹ پر بدھ کے روز سود کی شرح ۹۸ء۶؍فیصد رہی، جو اسی مدت کے سرکاری ٹریژری بل کی ییلڈ سے کہیں زیادہ ہے۔