فضائی کمپنی ’وی آروینچرس‘ الزامات اور تنقید کے گھیرے میں،اسکے لیئرجیٹ طیارے کا ۳؍سال میں یہ دوسرا بڑا حادثہ بتایا جارہا ہے
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 11:06 PM IST | Baramati
فضائی کمپنی ’وی آروینچرس‘ الزامات اور تنقید کے گھیرے میں،اسکے لیئرجیٹ طیارے کا ۳؍سال میں یہ دوسرا بڑا حادثہ بتایا جارہا ہے
یہاں پیش آنیوالے ہولناک طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزارتِ شہری ہوابازی ( ایم او سی اے ) نے جمعرات کو بتایا کہ حادثے کا بلیک باکس جائے وقوع سے برآمد کر لیا گیا ہے۔ اس میں فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر موجودہوتا ہے جس سے حادثے کی وجہ سامنے آئے گی۔بدھ کو پیش آنیوالے اس ہولناک حادثے میں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سمیت ۶؍ افراد نے جان گنوائی۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد تمام ضروری ریسپانس اور تفتیشی نظام متحرک کر دیے گئے ، اور اس سانحے کی مکمل، شفاف اور مقررہ وقت میں تحقیقات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بیان کے مطابق، ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی)، دہلی کے ۳؍ افسران اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن ( ڈی جی سی اے ) کے ممبئی علاقائی دفتر کے ۳؍ افسران پر مشتمل ٹیمیں۲۸؍ جنوری کو جائے حادثہ پر پہنچیں۔ اسی دن اے اے آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی حادثہ مقام کا دورہ کیا۔وزارت نے بتایا کہ تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور طیارے کا بلیک باکس برآمد کر لیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات اے اے آئی بی رولز۲۰۲۵ء کے ضابطہ۵؍اور۱۱؍ کے تحت شروع کی گئی ہے اور انہیں طے شدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔‘‘ اس سے قبل ڈی جی سی اے کے حکام اور فارینسک ٹیموں نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا، جبکہ پونے دیہی پولیس نے بارامتی تعلقہ پولیس اسٹیشن میں حادثاتی موت کی رپورٹ ( اے ڈی آر ) درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ۔
قابلِ ذکر ہے کہ۶۶؍ سالہ اجیت پوار بدھ کی صبح اس وقت ہلاک ہوئے جب چارٹرڈ لئیرجیٹ طیارہ بارامتی ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔ ڈی جی سی اے کے مطابق، طیارہ لینڈنگ کے وقت رن وے سے پھسل گیا اور فوراً آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ حادثے سے قبل کسی قسم کا ڈسٹریس سگنل جاری نہیں کیا گیا تھا۔
مذکورہ کمپنی کا طیارہ اس سے پہلے دو ٹکڑوں میں ٹوٹا تھا
اس المناک حادثے کے بعد وی ایس آر وینچرز نامی نجی طیارہ کمپنی سوالات کے گھیرے میں آگئی ہے۔سام ٹی وی مراٹھی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ۳؍سال میں اسکے لیئر جیٹ۴۵؍ طیارے کا یہ دوسرا بڑا حادثہ بتایا جا رہا ہے۔ ۱۴؍ستمبر۲۰۲۳ء کو کمپنی کا ایک طیارہ ممبئی ایئرپورٹ پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں طیارہ ۲؍ حصوں میں ٹوٹ گیا تھا، تاہم خوش قسمتی سے اس وقت کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ۲۰۲۳ء کے اس حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آئی، اسکے باوجود کمپنی کا کاروبار بدستور جاری رہا۔رپورٹ کے مطابق بارامتی میں تباہ ہونے والا طیارہ۱۹۹۸ء میں تیار کیا گیا تھا اور اس میں ہنی ویل انجن نصب تھے۔ لیکن اسی ماڈل کے طیارے کا مسلسل دوسری مرتبہ حادثہ اب فضائی حفاظت پر سوال قائم کررہا ہے۔
طیارے کو اڑان کی اجازت کیسے ملی؟
اتنی خامیوں کے باوجود اس طیارے کواڑان کی اجازت کیسے دی گئی؟یہ اجازت کس کے ذریعے دی گئی؟ڈی جی سی اے کیا کر رہا تھا؟ایک پرانا اور پہلے سے حادثہ زدہ طیارہ دوبارہ پرواز کے قابل قرار دیتے وقت کن معیار کی بنیاد پر فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا؟ یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ کمپنی وی وی آئی پی شخصیات کےلئے پرانے اور خستہ حال طیارے استعمال کر رہی تھی۔تاہم اس معاملے پر کمپنی کی جانب سے ابھی تک کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔