۷۳۱؍ضلع پریشد نشستوں اور۱۲۵؍ پنچایت سمیتیوں کی ۱۴۵۴؍ نشستوں کیلئے رائے دہی ہوئی، ۲؍ کروڑ سے زائد ووٹروں نے ۷؍ ہزار سے زائد امیدواروں کی قسمت کافیصلہ ای وی ایم میں بند کیا، اجیت پوار کی موت کے بعد این سی پی کیلئے بڑ اامتحان
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 8:52 AM IST | Mumbai
۷۳۱؍ضلع پریشد نشستوں اور۱۲۵؍ پنچایت سمیتیوں کی ۱۴۵۴؍ نشستوں کیلئے رائے دہی ہوئی، ۲؍ کروڑ سے زائد ووٹروں نے ۷؍ ہزار سے زائد امیدواروں کی قسمت کافیصلہ ای وی ایم میں بند کیا، اجیت پوار کی موت کے بعد این سی پی کیلئے بڑ اامتحان
مہاراشٹر کے ۱۲؍ اضلاع میں ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کے لیےسنیچر ۷؍فروری کو ووٹ ڈالے گئے۔پولنگ صبح ۷؍ بجے شروع ہوئی اورشام ساڑھے ۵؍ بجے تک جاری رہی ۔ یہ انتخابات سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی گزشتہ ماہ طیارہ حادثے میں ہوئی موت کے بعد این سی پی کیلئے پہلا بڑ ا سیاسی امتحان تصور کیے جا رہے ہیں جس پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ ان انتخابات میں۲ ؍ کروڑ سے زائد رائے دہندگان ووٹ دے رہے ہیں ۔ مجموعی طورپر۷۴۳۸؍ امیدوار میدان میں ہیں۔
ان بلدیاتی انتخابات کے تحت۱۲؍ ضلع پریشدوں کی۷۳۱؍ نشستوں اور۱۲۵؍ پنچایت سمیتیوں کی ۱۴۵۴؍ نشستوں کیلئے رائے دہی ہوئی۔ پورے انتخابات کیلئے سیکوریٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ۔ خاص طور پر مغربی مہاراشٹر میں جہاں این سی پی کے دونوں گروہ الگ الگ اتحادوں کے تحت میدان میں ہیں۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق، یہ انتخابات اصل میں۵؍ فروری کو ہونے والے تھے لیکن بعد میں انہیں۷؍ فروری تک مؤخر کر دیا گیا۔ووٹوں کی گنتی اتوار یعنی آج کی جائے گی۔ ووٹنگ والے تمام اضلاع میں ڈرائی ڈے نافذ کیا گیا ہے، جبکہ ووٹروں کے لیے تنخواہ کے ساتھ چھٹی کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس میں پڑوسی ریاست گوا میں کام کرنے والے مہاراشٹر کے رجسٹرڈ ووٹرز بھی شامل ہیں۔
این سی پی کے اندرونی سیاسی توازن کا اشارہ ملے گا
مہایوتی اتحادکو جس میں بی جے پی، ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور این سی پی (اجیت) شامل ہیں، مہاوکاس اگھاڑی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔ جن اضلاع میں ووٹنگ ہو رہی ہے ان میں پونے(۷۳)، رائے گڑھ(۶۰)، رتناگیری(۵۲)، سانگلی(۶۴)، ستارا(۶۸)، سندھو درگ(۵۰)، کولہاپور(۶۷)، اورنگ آباد(۶۲) ،پربھنی(۵۴)، عثمان آباد (۵۵) ، لاتور(۶۵) اور ناندیڑ(۵۸) ضلع پریشد نشستیں شامل ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار جو آنجہانی اجیت پوار کی اہلیہ اور ریاست کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ ہیں ، ابتدائی ووٹ ڈالنے والوں میں شامل رہیں۔ انہوں نے بارامتی میںاپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان انتخابات کے نتائج این سی پی کے اندرونی سیاسی توازن کے حوالے سے اہم اشارے دیں گے۔
بارامتی میں روہت پوار کا جذباتی بیان
ضلع پریشد انتخابات کے دوران بارامتی میں این سی پی( ایس پی) کے رہنما روہت پوار نے خاندانی سوگ اور انتخابی سرگرمیوں کے پس منظر میں جذباتی ردِعمل ظاہر کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنجہانی اجیت پوار ضلع پریشد انتخابات میں ہمیشہ نہایت سرگرم کردار ادا کرتے تھے اور وہ اپنی جماعت اور اپنے کارکنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اجیت پوار ہر ممکن طریقے سے کارکنوں کی مدد کرتے تھے اور انتخابی مہم میں پیش پیش رہتے تھے۔
انہوں نے آبدیدہ انداز میں کہا کہ بدقسمتی سے اب دادا ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں جو خاندان اور پارٹی دونوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ روہت پوار کے مطابق اجیت پوار کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ان کے کارکن اقتدار میں آئیں اور انتخابات میں کامیابی حاصل کریں، تاکہ وہ اپنے علاقے اور عوام کی بہتر خدمت کر سکیں۔روہت پوار نے واضح کیا کہ گزشتہ۱۰؍ دنوں سے خاندان میں کسی بھی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ تقریباً۳؍ دن تک بھی خاندان میں سیاسی معاملات پر بات نہیں کی جائے گی کیونکہ اس وقت خاندان سوگ اور حساس جذباتی کیفیت سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں اور امید ظاہر کی کہ آنجانی اجیت پوار کی پارٹی، کارکنوں اور علاقے سے متعلق تمام خواہشات پوری ہوں گی۔ ان کے مطابق اجیت پوار ہمیشہ یہی چاہتے تھے کہ ان کے کارکن اقتدار میں آ کر عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں حل کریں اور علاقے کی ترقی کو رفتار دیں۔