یوجی سی کے نئے ضابطے کی مخالفت اور شنکراچاریہ اویمکتیشورا نند کی حمایت مہنگی پڑی،النکار اگنی ہوتری کا وزیراعظم مودی کے نام خط ، ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ کیا
EPAPER
Updated: January 27, 2026, 11:11 PM IST | New Delhi
یوجی سی کے نئے ضابطے کی مخالفت اور شنکراچاریہ اویمکتیشورا نند کی حمایت مہنگی پڑی،النکار اگنی ہوتری کا وزیراعظم مودی کے نام خط ، ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ کیا
ان دنوں ملک میں ایک نئی طرح کی سیاسی آگ لگی ہے جس میں اترپردیش کی یوگی اور مرکز کی مودی حکومت جھلس رہی ہیں۔اسی بحران کے تحت ایک دن قبل بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری نے استعفیٰ دیا تھا۔ بعد ازاں منگل کویوگی حکومت نے انہیں معطل کردیا۔
اتر پردیش میں بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری کو حکومت نے بدعنوانی اوربدنظمی کے الزام میں پیر کی دیر رات معطل کر دیا ہے۔ انہیں ضلع مجسٹریٹ شاملی کے دفتر سے منسلک کر دیا گیا ہے، جبکہ بریلی کے کمشنر بھوپیندر ایس چودھری کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ اتر پردیش حکومت کے تقرری شعبے کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ النکار اگنی ہوتری نے ظاہری طورپر انضباطی خلاف ورزی کی ہے، جس کے پیش نظر انہیں فوری طور پر معطل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ یومِ جمہوریہ کے موقع پر بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر انتظامی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی۔ اپنے تیز وتند اور جذباتی بیان میں انہوں نے نہ صرف سرکاری نظام پر سنگین الزامات عائد کئے بلکہ برہمن سماج کی توہین، الہ آباد کے ماگھ میلہ واقعہ اور یو جی سی ریگولیشنز۲۰۲۶ء کے معاملے پر مرکزی حکومت پر براہِ راست حملہ کیا۔اپنے استعفیٰ کے ساتھ انہوں نے ایک نہایت جارحانہ، جذباتی اور انتباہی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ خود عہدہ چھوڑ رہے ہیں تو یہ ان کے (برہمن) سماج کے عوامی نمائندوں کیلئے بھی خود احتسابی کا وقت ہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں اپیل کی تھی کہ برہمن سماج کے جتنے بھی عوامی نمائندے مرکزی یا ریاستی حکومت میں ہیں، اگر ان میں ذرا سی بھی شرم اور جرأت باقی ہے تو وہ فوری طور پر اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیں اور سماج کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ سماج رہے گا تو عہدہ رہے گا، سماج کے بغیر کوئی بھی شخص انتخاب جیتنے کی حالت میں نہیں رہے گا۔
النکار اگنی ہوتری نے کہا تھا کہ اس وقت عام زمرہ خود کو مرکز اور ریاستی حکومتوں سے الگ محسوس کرنے لگا ہے اور حالات ایسے بن چکے ہیں کہ دونوں ہی جگہ حکومت ایک طرح سے اقلیت میں دکھائی دے رہی ہے، جس سے ملک میں نہایت خوفناک حالات پیدا ہو چکے ہیں۔
اس واقعے کے بعد منگل کو صبح النکار اگنی ہوتری ایک بار پھر میڈیا سے مخاطب ہوئے اور حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے۔ جب ان سے ان کی معطلی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ میں پہلے ہی استعفیٰ دے چکا ہوں،اسلئے مجھے اس معطلی سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ہے۔
ایک دن قبل اپنے استعفیٰ نا مے کےساتھ النکار اگنی ہوتری نے اترپردیش کی گورنر، الیکشن کمشنر اور یوپی کے چیف الیکشن افسر کے نام ایک خط بھی لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے ماگھ میلے میں شنکرآچاریہ اور ان کے پیرو کاروں کے ساتھ ہوئی زیادتی اور مرکزی حکومت کے ذریعہ یوجی سی قانون سے دل برداشتہ ہوکر اپنی سروس سے استعفیٰ دینے کی بات لکھی ہے۔یوجی سی قانون اور شنکرآچاریہ تنازع پر انہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ برہمن اور جنرل زمرے کی نمائندگی کیلئے متبادل سیاسی نظام کا فیصلہ کیاجائے تاکہ جنرل زمرے کے مفاد کا تحفظ ہوسکے۔
اگنی ہوتری نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مقامی انتظامیہ کے ذریعہ برہمنوں کی ملک گیر پیمانے پر توہین کی گئی ہے۔ الہ آباد کا واقعہ قابل تشویش ہے اورموجودہ ریاستی حکومت میں ایسے واقعات رونما ہونے سے ایک عام برہمن کی روح کانپ جاتی ہے۔اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور موجودہ ریاستی حکومت برہمن مخالف نظریئے کے ساتھ کام کررہی ہے اور سادھو سنتوں کے وقار سے کھلواڑ کررہی ہے۔۲۰۱۹ءکے’ یوپی پی ایس سی‘ افسر نے اپنے استعفیٰ میں سب سے نیچے لکھا ہے کہ اب مرکزی و ریاستی حکومت میں نہ ہی ’جن تنتر‘ ہے اور نہ ہی ’لوک تنتر‘بس ’بھرم تنتر‘ ہے۔ ملک میں اب دیسی حکومت نہیں ودیشی جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔