ہر انڈے پر اس کی پیدوار کی تاریخ اور وہ کب تک قابل استعمال ہے اس کا اندراج ضروری ہوگا ورنہ کارروائی ہوگی۔
پولٹری فارم والوں کا کام بڑھا دیا گیا۔ تصویر:آئی این این
اترپردیش کی یوگی حکومت نے ایک ایسا حکم جاری کیا ہے جس سے مواضعات سے لے کر شہروں اور گلی محلوں تک کے کرانہ دکانداروں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ حکومت کے اس نئے حکم کے مطابق اب ہر ایک انڈے پر اس کی پیداوار کی تاریخ اور’ایکسپائری ڈیٹ‘درج کرنا لازمی ہوگا۔یہ حکم دراصل ریاست کے محکمۂ مویشی پروری اور محکمۂ خوراک کی ہدایات پر جاری کیا گیا ہے۔
سرکاری حکم کے مطابق یکم اپریل سے پورے صوبے میں ہر دکاندار کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ہر انڈے پر پیداوار کی تاریخ اور ایکسپائری ڈیٹ کی مہر لگائے، تاکہ خریدار خود دیکھ کر اندازہ لگا سکے کہ انڈا کتنا پرانا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی دکاندار اس حکم کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس کے تمام انڈے ضبط کر لئے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم عوام کو خالص اور محفوظ خوراک فراہم کرنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔چیف ویٹرنری افسر کے مطابق محکمہ کو متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں کہ کئی مقامات پر پرانے انڈے فروخت کئے جا رہے تھے اور صارفین کو اس کی کوئی اطلاع نہیں ہوتی تھی۔ چونکہ انڈوں کا تعلق براہ راست انسانی صحت سے ہوتا ہے، اس لئے اس طرح کا سخت فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ماہرین کے مطابق عام درجۂ حرارت یعنی تقریباً ۳۰؍ ڈگری سیلسیس میں انڈے صرف دو ہفتے تک محفوظ رہتے ہیں، جبکہ اگر انہیں ۲؍ سے۸؍ ڈگری سیلسیس کے درمیان رکھا جائے تو یہ تقریباً پانچ ہفتوں تک خراب نہیں ہوتے۔ تاہم اکثر دیکھا گیا ہے کہ دکاندار انڈوں کو محفوظ رکھنے کے لئے کولڈ اسٹوریج کا استعمال نہیں کرتے، لیکن اب اس نئے حکم کے بعد اس صورتحال میں بہتری آنے کی امید ہے۔
فی الحال یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دکاندار مرغی کے انڈے دینے کی تاریخ کیسے معلوم کریں گے اور ان انڈوں پر اس کی مہر کیسے لگوائیں گے۔ البتہ حکومت کے اس فرمان سے دکانداروں میں کسی حد تک بے چینی ہے۔ یاد رہے کون سا انڈا کس تاریخ کو دیا گیا ہے یہ صرف پولٹری فارم والے ہی بتا سکتے ہیں اور وہی مہر لگا سکتے ہیں۔