سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا یووا مورچہ نے پولیس میں شکایت درج کروائی کہ ہڈیاں گنگامیں پھینکی گئی تھیں
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 12:36 AM IST | Lucknow
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا یووا مورچہ نے پولیس میں شکایت درج کروائی کہ ہڈیاں گنگامیں پھینکی گئی تھیں
اتر پردیش کے وارانسی میں چند مسلم نوجوانوں کو دریائے گنگا کے بہتےپانی میں کشتی میں بیٹھ کر افطار کرنا مہنگا پڑ گیا کیونکہ ان لوگوں نے افطاری میں گوشت کھایا تھا اور مبینہ طور پر اس گوشت کی ہڈیاں پانی میں بہا دی تھیں۔ ہندو توا وادیوں کی شکایت پر پولیس نے معاملہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا۔
اطلا ع کے مطابق گزشتہ پیر کو گنگا ندی میں ایک کشتی پر افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس افطار پارٹی نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔ افطار پارٹی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا ۔ بتایا جا رہا ہے کہ افطار کے دوران مہمانوں کو مبینہ طور پر چکن بریانی پیش کی گئی تھی۔ الزام ہے کہ کھانے کے بعد بچا ہوا حصہ، جس میں ہڈیاں بھی شامل تھیں، گنگا ندی میں پھینک دیا گیا۔ اس کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے اور افطار کا اہتمام کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
کچھ ہندوتوا وادی تنظیموں نے اسے’ گنگا کی پاکیزگی‘ کے خلاف قرار دیتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ رمضان المبارک اور دریائے گنگا ، ان دونوں مذہبی علامات کو یکساں دیکھنا بھی بعض لوگوں کو کھٹک رہا ہے۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ نوجوان کشتی پر جمع ہو کر افطار کر رہے ہیں اور بچا ہوا کھانا ندی میں ڈال رہے ہیں۔اس معاملہ میں ’بھارتیہ جنتا یووا مورچہ‘ (بی جے وائی ایم) کے سٹی پریسیڈنٹ رجت جیسوال نے کوتوالی تھانہ میں شکایت درج کروائی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طبقہ کے کچھ نوجوانوں نے گنگا کے بیچ کشتی پر افطار کرتے ہوئے نہ صرف گوشت سے تیار کھانا کھایا بلکہ اس کا بچا ہوا حصہ ندی میں پھینک کر مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے وائرل ویڈیو کی جانچ شروع کی۔پولیس ذرائع سے سامنے آ رہی خبروں میں بتایاگیا ہے کہ جانچ کے دوران ویڈیو پہلی نظر میں درست پایا گیا ہے۔ اس کے بعد ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوانوں کی شناخت کی گئی اور پولیس نے ۱۴؍ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں کوتوالی کے اے سی پی دھرو پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ تمام ملزمین کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ ان کی شناخت کے بعد تمام ۱۴؍ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ۔ ان لوگوں پرمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، مذہبی مقامات میں خلل ڈالنے، تفرقہ پھیلانے اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے جیسے الزامات شامل کئے گئے ہیں۔اسکے علاوہ ’آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول ایکٹ ۱۹۷۴؍کی دفعہ ۲۴؍ بھی اس مقدمے میں شامل کی گئی ہے۔ ان لوگوں کی گرفتاری کیلئے ۲؍ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ فوری طور پر ان ۱۴؍ لوگوں کا پتہ لگا کر انہیں حراست میں لیا گیا۔
اس واقعہ پر وارانسی میونسپل کارپوریشن نے بھی سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے پی آر او نے کہا کہ اس طرح کا عمل انتہائی قابل اعتراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گنگا کی صفائی اور پاکیزگی کو برقرار رکھنے کیلئے میونسپل کارپوریشن کے ضوابط واضح ہدایات دیتے ہیں۔ ان قواعد کے تحت گنگا گھاٹوں یا دریا کے بیچ کسی بھی سرگرمی کو مذہبی جذبات اور صفائی کے معیارات کا خیال رکھتے ہوئے ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے نگرانی اور سختی میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ گنگا کی پاکیزگی اور عوامی عقیدت کو کسی بھی طرح نقصان نہ پہنچے۔