• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہر کی گٹروں اور نالوں کی صفائی کرنے والے مزدوروں کی اموات کا معاملہ: معاوضہ نہ دینے پر کورٹ برہم

Updated: January 19, 2026, 11:00 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ نے نالے کی صفائی کے دوران کرنٹ سے مرنے والے مزدور کے علاوہ صفائی کے دوران دیگر۱۱؍مزدوروں کی موت پرحکومت کو جلد سے جلد معاوضہ دینے کی ہدایت دی۔

Cleaning drains is not without risks. Picture: INN
نالوں کی صفائی خطرے سے خالی نہیں۔ تصویر: آئی این این
گزشتہ روز بامبے ہائی کورٹ میں میں ۳؍ سال قبل نالے کی صفائی کرتے ہوئے فوت ہونے والے مزدور کواب تک معاوضہ نہ دیئے جانے کی اطلاع دیتے ہوئےعرضداشت داخل کرنے والی مزدور یونین نےیہ بھی بتایا کہ مین ہول ، نالا اور گٹر کی صفائی کے دوران مناسب حفاظتی انتظامات نہ کرنے سے ہونے والی ۱۲؍ اموات کے معاملہ میں حکومت نے اب تک ۱۱؍ معاملات میں معاوضہ ادا نہیں کیا ہے۔ اس اطلاع پر بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو نہ صرف ۳؍ سال قبل نالے کی صفائی کے دوران بجلی کا جھٹکا لگنے سے فوت ہونے والے مزدور کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دی ہے بلکہ گٹر اور مین ہول کی صفائی کے دوران دیگر ۱۱؍ کیسیزمیں فوت ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ کو بھی جلد سے جلد طے شدہ ۱۰؍ لاکھ معاوضہ ادا کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔
مین ہول ، نالا اور گٹر کی صفائی کے دوران ناقص حفاظتی انتظامات کے سبب مزدوروں کی ہونے والی اموات کے خلاف ورکر یونین شرمک جنتا سنگھ نے بامبے ہائی کورٹ میں داخل کردہ عرضداشت کا حوالہ دیتے ہوئے حلف نامہ داخل کیا ۔ مذکورہ تنظیم نے بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کی جسٹس بھارتی ڈانگرے اور منجوشا دیشپانڈےکے روبرو داخل کردہ حلف نامہ کے ذریعہ بتایا کہ جون ۲۰۲۳ء میں کلیان میں نالے کی صفائی کے دوران بجلی کا جھٹکا لگنے سے مزدور کی موت ہونے اور ۱۰؍ لاکھ معاوضہ دینے کی  ہامی بھرنے کے بعد ۳؍سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود معاوضہ نہیں دیا گیا ہے ۔
تنظیم نے کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ ’’ اب تک نالا ، مین ہول اور گٹروں کی صفائی کے دوران ہونے والی اموات سے متعلق ۱۲؍ کیسیز میں صرف ایک معاملہ  میں ہی معاوضہ ادا کیا گیا ہے جبکہ دیگر ۱۱؍ معاملات میں حکومت نے اب تک معاوضہ دینے کی  ہامی نہیں بھری ہے ۔کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کے نالوں کی صفائی سے متعلق ٹھیکہ لینے والی کمپنی پوانی انٹرپرائزز نے متاثرہ مزدور کو بھرتی کیا تھا ۔ وہیںکولسیواڑی پولیس نےٹھیکدار اور سپر وائزر کیخلاف حفاظتی انتظامات نہ کرنے پرحادثاتی موت کے تحت کیس درج کیا تھا ۔یہی نہیںتنظیم نے کے ڈی ایم سی کے افسران اور ٹھیکیدارکے خلاف جانچ کی اپیل کے ساتھ ہی معاوضہ دلائے جانے کی اپیل کی تھی ۔
اسی درمیان حکومت کی پیروی کرتے ہوئے وکیل اونکر چندرکر نےوزارت سماجی انصاف اور ایمپاورمنٹ کی ایک رپورٹ پیش کی جو  صفائی کرنے والوں کی بحالی اور معاوضہ کی نگرانی کر رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ معاوضہ کے لئے زیر التوا۱۲؍کیسیز میں دو کیسیز میں قانونی وارثوں کا پتہ نہیں چل سکا۔انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ مذکورہ بالا کیسیز میں معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے ۔اس اطلاع پرجسٹس بھارتی ڈانگرے اور منجوشا دیشپانڈےنےشدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے سوال کیا کہ آخر معاوضہ ادا نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں جبکہ یہ بات طے ہوچکی ہے کہ مین ہول یا گٹروں کی صفائی کےدوران لاپروائی برتنے کے سبب مزدوروںکی ہونے والی موت پر ان کے اہل خانہ کو حکومت معاوضہ دینے کی پابند ہوگی ۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح کردیا گیا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت ٹھیکیدار کمپنی اور سپر وائزر سے معاوضہ کی رقم حاصل کر سکتی ہے۔
کورٹ نے کلیان میں بجلی کا جھٹکا لگنے سے فوت ہونے والے مزدور کے علاوہ تمام متاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ کو جلد سے جلد معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK