• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاستی حج کمیٹی کا سی ای او مسلم نہ بنائےجانے پر شدیدناراضگی

Updated: January 19, 2026, 10:55 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت ۔ سماجوادی پارٹی کی جانب سے بھی پٹیشن داخل کرنے کی تیاری،سابق رکن اسمبلی ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے سخت اعتراض کیا اور ویڈیو بھی جاری کیا، ملی تنظیموں سے آگے آ نے کی اپیل کی۔ بی جے پی اقلیتی مورچہ کی جانب سے بھی وزیراعظم کومکتوب روانہ کیا گیا۔ یہ تیسرے غیر مسلم افسر کو ذمہ داری دی گئی ہے۔

A view of work at the Maharashtra Hajj Committee office. Picture: Inquilab
مہاراشٹر حج کمیٹی کے دفتر میں کام کاج کا منظر۔ تصویر:انقلاب
مہاراشٹر حج کمیٹی کا سی ای او مسلم نہ بنائے جانے اور فی الوقت سی ای او کی حیثیت  سے مہاراشٹر اقلیتی شعبے کے جوائنٹ سیکریٹری منوج جادھو کے خدمات انجام دینے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 
اس بابت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سربراہان کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے خلاف سماجوادی پارٹی کی جانب سے سب سے پہلے آواز بلند کی گئی  اور بی جے پی اقلیتی مورچہ کے نائب صدر کی جانب سے بھی وزیراعظم کو مکتوب روانہ کیا گیا۔
اس تعلق سے ممبئی امن کمیٹی کے دفتر میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبئی کے اراکین کی ایک میٹنگ  منعقد کی گئی اور یہ طے کیا گیا کہ پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ ابتداء میں اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر)  کی جانب سے اس تعلق سے ایڈوکیٹ عبدالکریم پٹھان کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔ اس کے بعد   حسبِ ضرورت یوسف حاتم مچھالا اور اگر مزید ضرورت پڑی تو ملک کے معروف قانون دان ایڈوکیٹ کپل سبل اور ایڈوکیٹ منو سنگھوی وغیرہ کی بھی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
یادرہے کہ ریاستی حج کمیٹی کے سابق ایگزیکٹیو آفیسر امتیاز قاضی کی مدت ِکار پوری ہوجانے کے کچھ عرصے بعد میگھنا شندے کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، چند ماہ میں ان کو ہٹادیا گیا ،اس کے بعد واہول نام کے آفیسر کی تقرری کی گئی، ان کا اچانک انتقال ہونے کے بعد منوج جادھو کو ریاستی حج کمیٹی میں  سی ای او کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ابھی اس عہدے پر رہ کر اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔
اس پر سخت اعتراض کیا جارہا ہے کہ حج جیسے اہم امور کی ذمہ داری کسی غیرمسلم آفیسر کے سپرد کیسے کی جاسکتی ہے ؟حج کے امور سے متعلق معلومات نہ ہونے کے سبب وہ انصاف نہیں کرسکیں گے اور یہ اصول کے بھی خلاف ہے ۔
اس تعلق سے سماج وادی پارٹی کے عہدیدار سابق رکن اسمبلی ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے سخت اعتراض کیا اور ویڈیو بھی جاری کیا اور اس کے ذریعے ملت کے ذمہ دار افراد اور ملّی تنظیموں سے یہ اپیل کی کہ وہ اس نا انصافی کے خلاف آگے بڑھیں اور اپنا احتجاج درج کروائیں۔ 
یوسف ابراہانی نے  اپنے طور پر بھی۲۰؍ جنوری تک عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت کا یہ فیصلہ  قطعی مناسب نہیں ہے، مسلمانوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔یوسف ابراہانی نے نمائندۂ انقلاب کو یہ بھی بتایا کہ ہم نے پٹیشن تیار کرلی ہے، آج داخل کروں گا اور ابوعاصم اعظمی بھی اپنی جانب سے پٹیشن تیار کروارہے ہیں۔
مہاراشٹرساہتیہ اردواکیڈمی کے سابق کارگزارصدر ڈاکٹراحمد رانا نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کیا اور یہ درخواست کی کہ وزیراعظم اس پر توجہ دیں اورحج کمیٹی، جو حکومت ہند کی قیادت میں چلائی جاتی ہے اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے قائم کی گئی ہے، اس کے توسط سے بہت سے مسلمان حج کی ادائیگی کے لئے جاتے ہیں۔ خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ جناب، جب کسی غیر مسلم کو ایسے ادارے کا سی ای او مقرر کیا جاتا ہے تو مسلم کمیونٹی میں بے چینی پھیل جاتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ ادارہ صرف مسلمانوں کا ہے۔ حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مسلمان کو سی ای او کی ذمہ داری دی جانی چاہئے۔ میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے پر فوری طور پر غور کریں اور مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے مہاراشٹر حج کمیٹی کے سی ای او کے طور پر ایک مسلمان آفیسر کو مقرر کریں۔
اس تعلق سے ممبئی امن کمیٹی کے دفتر میں ہونے والی میٹنگ میں ممبئی میں پرسنل لاء بورڈ کے اراکین اور جماعت اسلامی کے کارکنان مولانا محمود خان دریابادی، حافظ محمد اقبال چونا والا، فرید شیخ، مفتی سعیدالرحمٰن، سلیم موٹر والا اور شاکر شیخ موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK