Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال کے مہاجر مزدور’گھس پیٹھیا‘ کی سیاست اور’’ایس آئی آر‘‘ کےدرمیان سینڈ وِچ بن کر رہ گئے

Updated: April 23, 2026, 8:11 AM IST | Kolkata

ووٹر لسٹ سے نام کٹناان کیلئے صرف حق رائے دہی سے محرومی نہیں ہےبلکہ روزگار سے محرومی ہے کیوں کہ بیرون ِ ریاست انہیں کام حاصل کرنے کیلئے اکثر شناختی کارڈدکھانا پڑتا ہے

Muhammad Aneeq-ul-Haq showing documents outside his house in Murshidabad. 8 out of 9 names in his family have been removed from the SIR.
مرشد آباد میں محمد عنیق الحق اپنے گھر کے باہر دستاویز دکھاتےہوئے۔ان کے گھر کے ۹؍ میں سے ۸؍ نام ایس آئی آر میں کٹ گئے ہیں

مغربی بنگال کےمرشد آباد ضلع کے شمشیرگنج  سے تعلق رکھنے والے مہاجر مزدور محمد عنیق الحق  اپنی زندگی میں کئی بحرانوںکا سامنا کرچکے ہیں۔ ۲۰۱۶ء کی نوٹ بندی  کے دوران وہ  کھانا، پانی اور نقدی کیلئے قطاروں میں کھڑے  رہے۔ کووڈ-۱۹؍  کے لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے  اڈیشہ میں  باہر سے بندعمارتوں  میں ’’جیل میں کسی چور کی طرح ‘‘ کام  کیا اورگھر واپسی کا انتظار کرتے رہے۔ مگر اس بار صورتحال مختلف ہے۔
 ووٹر لسٹ کی ’’خصوصی جامع نظر ثانی ‘‘ (ایس آئی آر) کے بعد ان کا نام ووٹر لسٹ سے کٹ  گیا ہے  جس کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ اپیلی  ٹربیونل میں ان کی اپیل   زیر التوا ہے اور وہ اپنے حق رائے دہی کی بحالی کے منتظر ہیں ۔ ووٹر لسٹ میں نام بحال ہو تو وہ پھر ریاست کےباہر مزدوری کیلئے روانہ ہوں۔ وہ  عید  کے موقع پر وطن واپس آئے تھے اوراس کےبعدسے  یہاں مجبوراً بیڑی بنانے کا کام کررہے ہیں جس  سےانہیں معمول کی آمدنی کے مقابلے  میں آدھی آمدنی ہوتی ہے۔  انہیں  ڈرہے کہ ووٹر لسٹ میں نام بحال نہ ہوا تو انہیں نشانہ بنایا جاسکتاہے اس لئے   نام کی بحالی سے پہلے وہ  ریاست سے باہر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کیلئے ووٹ کھونا گویا روزگار کھونے کے مترادف ہے۔وہ کہتے ہیں’’یقیناً  ڈر لگا رہتا ہے ۔ تمام ضروری دستاویز ہونے کے باوجود  صرف بنگالی بولنے کی وجہ سے کئی ریاستوں میں ہمیں بنگلہ دیشی کہا جاتا ۔ اب جب نام بھی  ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے تو یہ خطرہ اور بڑھ گیا ہے۔‘‘
 عنیق الحق جو ادیشہ، جھارکھنڈ، بہاراور تمل ناڈو میں مزدوری کرچکے ہیں، نے نیوز لانڈری سے بات چیت میں بتایا کہ ان کے خاندان کے ۹؍میں سے ۸؍ نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔ الیکشن رجسٹریشن آفیسر کو دی گئی درخواست میں نام کاٹنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ نام’’ایک ایسے فرد سےجڑے ہوئے  ہیں  جسے ۶؍ افراد نے   اپنا پیرنٹ (والد/ یا والد ہ ) بتایا ہے۔‘‘ دوسری  طرف عینق الحق کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تمام ضروری دستاویز موجود ہیں۔
  بنگال میں ایس آئی آر کے دوران جن حلقوں میں سب سے زیادہ نام کٹے ہیں ان مکیں  شمشیر گنج شامل ہے جومسلم  اکثریتی حلقہ ہے ۔ بنگال میں ایس آئی آر پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر  دراصل شہریت کے تعین کا ذریعہ بن رہا ہے۔  یوگیندر یادوجیسے سیاسی کارکن جو ایس آئی آر کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں، کا ماننا ہے کہ ’’عمل آئینی اقدار کو چیلنج کر رہا ہے۔‘‘ کارکنان کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو شہریت کے تعین کا کوئی اختیار نہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK