Updated: April 22, 2026, 10:17 PM IST
| Jerusalem
مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی فوجیوں کے ذریعے فلسطینی بچوں کے خلاف تشدد کی متعدد داستانیں سامنے آرہی ہیں،جس میں بچوں کو مارنا ، پیٹنا، گھسیٹنا، گالیاں دینا شامل ہے۔
اسرائیلی فوج کے خوف سے سائے میں فلسطینی بچے۔ تصویر: ایکس
مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی فوجیوں کے ذریعے فلسطینی بچوں کے خلاف تشدد کی متعدد داستانیں سامنے آرہی ہیں،جس میں بچوں کو مارنا ، پیٹنا، گھسیٹنا، گالیاں دینا شامل ہے۔انادولو ایجنسی کو ۹؍ سالہ عبداللہ ابو عالیہ نے بتایا، ’’ہم کھیل رہے تھے اور اچانک اسرائیلی فوجی آئے اور ہمارا پیچھا کیا۔ ان میں سے ایک نے مجھے پکڑ کر مارنا شروع کیا، پھر وہ مجھے گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں لے گئے۔‘‘اس کے علاوہ مغربی کنارے میں دو فلسطینی بھائیوں کو اسرائیلی فوجیوں کےذریعے حراست میں لیے جانے اور تشدد کا ایک ویڈیو شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے، جبکہ مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی تشدد جاری ہے۔یہ واقعہ رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں المغیّر میں پیش آیا، جہاں دو بچے اپنے گھر کے قریب کھیل رہے تھے کہ اچانک اسرائیلی فوج نے علاقے میں چھاپہ مارا اور ان کا پیچھا کیا۔نو سالہ عبداللہ ابو عالیہ نے بتایا کہ فوجیوں نے انہیں پکڑ لیا اور چہرے اور ٹانگوں پر مارا۔ عبداللہنے کہا کہ فوجی عبرانی زبان بول رہے تھے جسے وہ سمجھ نہیں پایا۔ان کے سات سالہ بھائی محمد نے بتایا کہ فوجیوں نے انہیں بار بار مارا اور یہ کہ انہیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے ’’فلسطینی پرچم اور نقشہ والی‘‘ قمیض پہنی ہوئی تھی۔
بعد ازاں مقامی ذرائع نے بتایا کہ حملے کے وقت بچے کھیل رہے تھے، جس سے گاؤں والوں میں خوف بڑھ گیا ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے اس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو ’’سب سے بے راہ روی کا شکار فوج‘‘ قرار دیا۔ بفلسطینی کارکنوں نے بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کو اسرائیلی فوج کے چھاپے کے دوران پیش آیا، جس کے بعد اتوار کو گاؤں کا محاصرہ کیا گیا۔واضح رہے کہ مغربی کنارے میں اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ جنگ کے آغاز سے شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے میں اسرائیلی فائرنگ اور مقبوضہ کارروائیوں میں۱۱۴۹؍ سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں، تقریباً ۱۱۷۵۰؍ زخمی ہوئے ہیں، اور تقریباً۲۲۰۰۰؍ کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں کے دوران فلسطینی بچے اکثر تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت تقریباً۳۶۰؍ فلسطینی بچے اسرائیلی جیلوں میں بالغ قیدیوں جیسی حالتوں میں قید ہیں۔