سبل نے۲ء۴ء لاکھ جوانوں کی شکل میں سینٹرل پولیس فورس کی غیر معمولی تقرری پر سوال اُٹھایا، پوچھا : ’’کیا بنگال میں ایمرجنسی نافذ ہے؟‘‘ ، گیانیش کمار کو ملک کیلئے ’’منطقی خامی‘‘ قرار دیا
EPAPER
Updated: April 23, 2026, 8:14 AM IST | New Delhi
سبل نے۲ء۴ء لاکھ جوانوں کی شکل میں سینٹرل پولیس فورس کی غیر معمولی تقرری پر سوال اُٹھایا، پوچھا : ’’کیا بنگال میں ایمرجنسی نافذ ہے؟‘‘ ، گیانیش کمار کو ملک کیلئے ’’منطقی خامی‘‘ قرار دیا
مغربی بنگال میں الیکشن کیلئے مرکزی فورسیز کی غیر معمولی تعیناتی پر بدھ کو راجیہ سبھا کے سینئر رکن اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ملک کیلئے ’’شرمناک‘‘ اور ’’سب سے بڑی منطقی خامی‘‘ قرار دیا۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران کم وبیش ۲۷؍ لاکھ ووٹرس کے نام ’’منطقی خامی/ تضاد‘‘ کے نام پر کاٹ دیئے گئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر پر تنقید کرتے ہوئے سبل نے کہا کہ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ’’منطقی‘‘ نہیں ہے۔
کیا بنگال میں ایمرجنسی نافذ ہے؟
بدھ کو کی گئی پریس کانفرنس میں کپل سبل نےبنگال میں سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی غیر معمولی تعداد میں تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا بنگال میں آئین سے بالاتر ہوکر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’’اس ایمرجنسی میں بنگال میں سی اے پی ایف کے ۲؍ ہزار ۴۰۰؍ پلاٹون تعینات کئے گئے ہیں۔ یعنی سی اے پی ایف کے ۲ء۴؍ لاکھ جوان تعینات ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بنگال میں ہر ۱۰۰؍ شہری پر سی اے پی ایف کا ایک جوان تعینات ہے؟‘‘
’’بی جےپی نہیں مرکزی حکومت الیکشن لڑ رہی ہے‘‘
کپل سبل نے صورتحال کا تجزیہ کرتےہوئے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ یہ الیکشن بی جےپی نہیں لڑ رہی بلکہ سی اے پی ایف اور الیکشن کمیشن لڑ رہا ہے۔‘‘راجیہ سبھا کے رکن نے نشاندہی کی کہ بنگال میں الیکشن میں بی جےپی کے حق میں ’’سرکاری مشینری کا بھرپوراستحصال‘‘ کیا جارہاہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ’’ سی اے پی ایف کے جتنے جوان بنگال میں تعینات کئے گئے ہیں اتنے جموں کشمیر میں بھی تعینات نہیں ہوںگے۔‘‘ سبل نے حیرت کا اظہار کیا کہ منی پور میں تشدد ہورہاہے مگر فورسیز بنگال منتقل کی گئی ہیں۔
بیرون ِ ریاست سے ووٹر لانے کیلئے ٹرینوں کا استعمال
گزشتہ دنوں سورت سے بی جےپی کے ۵؍ ہزار حامیوں کو بنگال الیکشن میں ووٹ ڈالنے کیلئے لانے کے مقصد سے خصوصی ٹرین چلائے جانے کو بھی انہوں نےسرکاری مشینری کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اسی گجرات سے جب ۲۳؍ ہزار مہاجر مزدور یوپی بہار میں اپنے گھرلوٹنے کیلئے ریلوے اسٹیشنوں پر اکٹھا ہوئے تو ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔
ایس آئی آر کےنام پر ووٹنگ سے محرومی
مغربی بنگال میں پہلے مرحلے میں ۱۵۲؍ نشستوں کیلئے جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ سے ایک دن قبل نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کپل سبل نے ایس آئی آر کے ذریعہ لاکھوں ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا معاملہ بھی پوری شدت سے اٹھایا۔ انہوں نے ’’منطقی تضاد‘‘ کے کا بہانہ بنا کر نام کاٹے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’منطقی تضاد کا یہ زمرہ بنگال میں ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔اس ملک کا سب سے بڑا منطقی تضاد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار خود ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مہاراشٹر اور ہریانہ میں اس کا استعمال نہیں کیا گیالیکن مغربی بنگال میں کیا جارہاہے۔‘‘ ’منطقی تضاد‘کی مثال پیش کرتے ہوئے سبل نے بتایاکہ ’’اگر ووٹر اور اس کے والد کے درمیان۱۵؍ سال سے کم کا فرق ہو تو نام حذف کر دیا جاتا ہے، اگر۵۰؍ سال سے زیادہ فرق ہو تو بھی نام حذف کر دیا جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ اے آئی کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔‘‘کپل سبل نے کہاکہ ’’چیف الیکشن کمشنر کا تضاد پورے مغربی بنگال میں نظر آرہا ہے۔ یہ شرمناک ہے کہ ہمارے پاس اس نوعیت کا الیکشن کمشنر ہے۔ یہ پوری طرح سے قومی شرمندگی کا باعث ہے اور اس سے بڑی قومی شرمندگی یہ ہے کہ اس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر رہا۔‘‘