بنگلور: ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سے پریشان ٹیکسی ڈرائیور کی خود سوزی کی کوشش

Updated: April 01, 2021, 12:22 PM IST | Bengaluru

آمدنی میں کمی سے پریشان تھا، دیگرڈرائیوروں نے احتجاجاً ہڑتال کردی، انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر خدمات متاثر، مسافروں سے سرکاری بس کے استعمال کی اپیل

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 کرناٹک اسٹیٹ ٹورزم محکمہ سے  وابستہ ایک ۳۵؍ سالہ ڈرائیور کی خود سوزی کی کوشش کےبعد بدھ کو بنگلور میں ٹیکسی ڈرائیوروں نے اچانک ہڑتال کردی جس کی وجہ سے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خدمات بری طرح متاثر ہوئیں اور انتظامیہ کو مسافروں  سے اپیل کرنی پڑی کہ وہ سرکاری بسوں کا استعمال کریں۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق۳۵؍ سالہ پرتاپ گوڑا نامی  ڈرائیور نے  ایندھن میں قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے سبب آمدنی میں کمی اورابتر معاشی حالت کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا ہے۔پرتاپ  نے منگل کی نصف شب اپنی ٹیکسی کو اندر سے بند کر کے پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ کے حوالے کردیا۔ اسے فوری طور پر اسپتال پہنچایاگیا جہاں اس نے دم توڑدیا۔  پولیس  نے تصدیق کی ہے کہ متوفی پردیپ گوڑا کرناٹک اسٹیٹ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (کے ایس ٹی ڈی سی) سے منسلک ٹیکسی  سروس سے وابستہ تھا۔ ایئرپورٹ کے ایک عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’کے ایس ٹی ڈی سی کی شرحیں دیگر ایپ بیسڈ ٹیکسیوں کے مقابلہ بہت زیادہ ہیں، جس کے سبب پردیپ کی آمدنی کم ہورہی تھی۔ غالباً اسی لئے  وہ  یہ مہلک اقدام اٹھانے پر مجبور ہوا ہوگا۔‘‘ ڈی سی پی بنگلورو شمال مشرقی ڈویزن سی کے بابا نے صحافیوں کو بتایا کہ واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد متوفی کو وکٹوریا اسپتال بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم تاحال اس کے اس مہلک اقدام کے پیچھے کی اصل وجوہات کو معلوم نہیں کر سکے ہیں۔‘‘ اس واقعہ کے بعد مختلف کیب ڈرائیور یونینوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ہڑتال کردی جس کے بعد   انتظامیہ نے ٹوئٹ کے ذریعے ایئرپورٹ پر ٹیکسی خدمات متاثر ہونے کی اطلاع دی ۔  پرتاپ کی موت کے بعد بنگلور شہر میں ٹیکسی چلانے والے دیگر ڈرئیوروں نے بھی صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ 

bengaluru Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK