Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیسٹ ملازمین کی ہڑتال سے دوسرے دن بھی شہریوں کو شدید پریشانی

Updated: June 21, 2026, 2:24 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

آج نیٹ امتحان کے پیش نظر ۶۰؍ اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایس ٹی کی ۱۰۰؍ بسیں بھی چلائی جائیں گی مگر یہ ناکافی ہوں گی۔ بیسٹ انتظامیہ نے ہڑتال کرنے والوں کو’ میسما‘کے تحت نوٹس جاری کیا۔

A long queue for taxis is seen outside Dadar station on the second day of the BEST strike. Photo: INN
بیسٹ کی ہڑتال کے دوسرے دن دادر اسٹیشن کے باہر ٹیکسی کے لئے طویل قطار نظر آرہی ہے۔ تصویر: آئی این این

سنیچر کو بیسٹ ملازمین کی ہڑتال کا دوسرا دن تھا، بسیں سڑکوں سے پوری طرح غائب ہونے سے شہریوں کو زبردست دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مجبوراً ٹرینوں ، آٹورکشا، اولااور اوبیر کے ذریعے اپنی منزل کارخ کیا۔ اس کےباوجود ان کی جیب پرخاصا بوجھ پڑا اور دشواری بھی ہوئی۔ اب تک یونین لیڈران اورحکومت کے مابین گفت وشنید کا کوئی نتیجہ نہیں برآمد ہوا ہے اس لئے اتوار کوبھی ہڑتال جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔ 
ہڑتالیوں کومیسما کے تحت نوٹس اور۱۰۰؍ ایس ٹی بسیں چلانےکی ہدایت 
اس سلسلےمیں  بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا اوریہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ہڑتال کے دوران مسافروں کی سہولت کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے جامع اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ بیسٹ سنیکت کامگار کیرتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال کی روشنی میں انتظامیہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو، اس کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پانی کی قلت سے تعمیراتی کام متاثر ہونے کا خدشہ

ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو میسما (مہاراشٹر ایسنسیشیل سروسیز مینٹیننس ایکٹ) کے تحت نوٹس جاری کی گئی ہے۔ پیدا ہونے والی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کو ۱۰۰؍ بسوں کا انتظام کرنے کے لئے کہا گیاہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسری جانب اس ہڑتال کا بجلی سپلائی نظام پراب تک کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ 
بیسٹ کے اس دعوے اورانتظام کے برعکس جب ۲۷۶۶؍بسیں معمول کے مطابق یومیہ چلائی جاتی تھیں تب بہت سے مسافروں کا بسوں میں چڑھنا مشکل ہوتا تھا، اب جبکہ بسیں سڑکوں سے سرے سے غائب ہیں تو ۱۰۰؍ایس ٹی بسو ں سے مسافروں کوکتنی راحت ملے گی ؟اس کا ا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ 
نیٹ امتحان کے لئے خصوصی بسوں کا انتظام
آج ۲۱؍جون اتوار کے دن نیٹ کے امتحان کے پیش نظر ممبئی بھر میں ۶۳؍ امتحانی مراکز پر طلبہ کو تکلیف سے بچانے اوروقت پر امتحان گاہ پہنچانے کے لئے صبح ۹؍بجے سے دوپہر۱؍بجے تک اور شام ۵؍بجے سے شام ۷؍بجے تک ۶۰؍ اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپو مینجرس کو احکامات بھی دیئے گئے ہیں۔ امتحان گاہ کےقریب کے اسٹاپ پر بیسٹ کا عملہ بھی موجود رہے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ادھو ٹھاکرے کبھی استعفیٰ نہیں دیں گے، بی جے پی کے ریاستی چیف ترجمان کی تنقید

اتوار کوتفریح کےلئےجانے والوں کےلئے مسئلہ 
اتوار کوعموماً شہری تفریح کے لئے یا اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے گھروں سے نکلتے ہیں لیکن جاری ہڑتال کےسبب ان کودشواری ہوسکتی ہے، اس لئے وہ سفر شروع کرنے سے قبل ذہن سازی کرلیں۔ 
یونین لیڈران پرکوئی اثر نہیں ، مطالبہ دہرایا 
جہاں ایک جانب ہڑتال سے لاکھوں شہری پریشان ہیں، انہیں مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے، وہیں دوسری جانب یونین لیڈران نےاپنے مطالبات کااعادہ کرتے ہوئے اسے پورا کئےجانے سےقبل ہڑتال ختم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ اس کےبرخلاف بیسٹ انتظامیہ کارروائی اورانتباہ کاحوالہ دے رہا ہے مگر سب کچھ بھگت عام شہری رہےہیں، اس لئے ہڑتال فوری طور پرختم کرنےکی ضرورت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK