پاکستان آم برآمداتبحران: برآمدات میں تعطل کے باعث پاکستان کی مقامی منڈیاں آموں سے بھر گئی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 21, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi
پاکستان آم برآمداتبحران: برآمدات میں تعطل کے باعث پاکستان کی مقامی منڈیاں آموں سے بھر گئی ہیں۔
جنوبی پاکستان میں آم کا سیزن زوروں پر ہے۔ کارکنوں کے گروپ درختوں سے رسیلے آم توڑنے میں مصروف ہیں۔ لیکن اس بار مٹھاس کڑواہٹ سے رنگی ہوئی ہے۔ پاکستان کی زراعت پر مبنی معیشت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے اس وقت گہرے بحران کا شکار ہے جس کا براہ راست اثر اسلام آباد کی آم کی برآمدات پر پڑا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس ہفتے سوئزرلینڈ میں شروع ہونے والے امن مذاکرات ایک عبوری معاہدے پر منتج ہوئے ہیں لیکن پاکستان کے آم کے تاجروں کے لیے یہ راحت بہت دیر سے آئی ہے۔ جون میں شروع ہونے والا سیزن اب تباہی کے دہانے پر ہے۔ تاجروں کا اندازہ ہے کہ اس سال آم کی برآمدات میں کم از کم۳۰؍ فیصد کمی واقع ہو گی جس کی وجہ بڑی غیر ملکی منڈیوں میں مانگ میں کمی اور جہاز رانی کے آسمان کو چھوتے ہوئے اخراجات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:دپیکا کی وجہ سے رنبیرنے ’’کاک ٹیل ‘‘ میں کام سے انکار کردیا تھا: سیف علی خان
بحران میں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا برآمد کنندہ
پاکستان آم کی دو درجن سے زائد اقسام اگاتا ہے، جسے جنوبی ایشیا میں ’’پھلوں کا بادشاہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ پاکستان عام طور پر بین الاقوامی منڈی میں آم کی فروخت سے سالانہ تقریباً ۱۱۰؍ ملین ڈالر کماتا ہے، جو اسے دنیا کا چوتھا سب سے بڑا آم برآمد کنندہ بناتا ہے۔ لیکن اس سال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے اس محصول کو ختم کر دیا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیف سرپرست وحید احمد کے مطابق ’’پاکستان کی آم کی کل برآمدات کا تقریباً ۸۰؍ فیصد خلیجی ممالک، ایران اور افغانستان کو جاتا ہے۔ لیکن پچھلے کچھ مہینوں سے، یہ تمام ممالک کسی نہ کسی طرح کے تنازعات اور جنگ کی چپیٹ میں ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ: کیوراساؤ اور ایکواڈور کے درمیان مقابلہ بغیر کسی گول کے ڈرا رہا
بند سرحدوں کی وجہ سے برآمدات میں ۳۰؍ ہزار ٹن کی کمی واقع ہو گی
وحید احمد نے بتایا کہ اس سال آم کی مجموعی برآمدات میں گزشتہ سیزن کے مقابلے میں ۳۰؍ہزار ٹن کمی متوقع ہے جو کہ صرف ۸۰؍ہزار ٹن تک پہنچ جائے گی۔ اس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں۔ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش کی وجہ سے آم سے لدے سیکڑوں ٹرک مہینوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔ ایران اور پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی ہے، جس سے جہاز رانی کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں۔ آموں کے ۲۵؍ ٹن کنٹینر کی ترسیل، جس کی قیمت گزشتہ سال ۱۴۰۰؍ ڈالر تھی، اس سال ۶۰۰۰؍ سے ۷۰۰۰؍ ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔