Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیر اعظم مودی پر ششی تھرور کا بیان ماورائے فطرت: کانگریس کا طنز

Updated: June 21, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi

کانگریس نے وزیر اعظم مودی پر دئے گئے ششی تھرور کے بیان پر طنز کرتے ہوئے اسے ماورائے فطرت قرار دیا ، جبکہ تھرور کا کہنا ہے کہ ہندوستانی ملاحوں پر دئے گئے ان کے بیان کو سیاسی تنازع میں تبدیل کردیا گیا۔

Shashi Tharoor. Photo: INN
ششی تھرور۔ تصویر: آئی این این

کانگریس نے سنیچر کو سینئر لیڈر ا ششی تھرور کے وزیراعظم نریندر مودی پر دیے گئے بیان پر حملہ کیا، جس میں پارٹی کے ترجمان پون کھیڑانےکہا کہ تھرور کی وزیراعظم کے لیے تعریف حقیقت سے ماورا ہو چکی ہے۔ جس پر تھرور نے جواب دیا کہ یہ حیران کن ہے کہ ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت کے بارے میں ایک بیان کو سیاسی تنازع میں تبدیل کر دیا گیا۔واضح رہے کہ یہ اختلاف اس وقت شروع ہوا جب تھرور نے ہندوستانی ملاحوں پر حملوں سے متعلق خدشات سے نمٹنے کے لیے پی ایم مودی کی تعریف کی۔ کھیڑانے ان بیانات پر سوال اٹھایا اور کہا کہ تھرور نے وزیراعظم سے ایسے بیانات منسوب کیے ہیں جو سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں ہیں۔کھیڑا نے کہا ،’’میرے سینئر ساتھی ڈاکٹر ششی تھرور کی پی ایم مودی کے لیے تعریف طبیعی دنیا کی حدود سے تجاوز کر گئی ہے۔ وہ اب ایسی باتیں سننے کے قابل دکھائی دیتے ہیں جو مودی کہتے ہی نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: حکومت اور این ٹی اےطلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ بند کریں: راہل گاندھی

جواب میں، تھرور نے کہا کہ ان کے بیانات شائع شدہ میڈیا رپورٹ پر مبنی ہیں۔ پی ایم مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ملاقات کی ایک یوٹیوب ویڈیو شیئر کرتے ہوئے، انہوں نے اپنے تبصروں کا دفاع کیا۔ تھرور نے ایکس پر لکھا،’’ان لوگوں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے وہ الفاظ سن لیے ، جو مودی نےجی ۷؍ میں کبھی نہیں کہے، میں محض ان کے بیانات کے بارے میں وسیع پیمانے پر شائع شدہ رپورٹ کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔‘‘ تھرور نے مزید کہا ،’’میں وسیع پیمانے پر پڑھتا ہوں اور جو پڑھتا ہوں اسے یاد رکھتا ہوں۔ مجھ پر زندگی میں کبھی کسی حقیقت یا بیان کو غلط بیان کرنے یا مسخ کرنے کا الزام نہیں لگا، اور میں پرنٹ میڈیا میں ان بیانات کے بارے میں جو کچھ پڑھا اس کا خلاصہ پیش کرنے پر قائم ہوں، جو مبینہ طور پر اس وقت کہے گئے جب ہمارے وزیراعظم @امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ بیٹھے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: وزیر تعلیم کے استعفے تک نہیں ہٹیں گے:دِپکے

واضح رہے کہ اس سے قبل، تھرور نے کہا تھا کہ’’ پی ایم مودی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ عوامی اور نجی دونوں مباحثوں میں ہندوستانی  ملاحوں پر حملوں کا مسئلہ اٹھایا۔پی ایم مودی نے صدر کے ساتھ عوامی اور نجی دونوں ملاقاتوں میں اپنا موقف واضح کیا۔ یہ پیغام پہنچانا ضروری ہے کہ جنگ کے وقت تجارتی جہازوں پر سوار ملاحوں کو جنگی ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے۔ وہ سپاہی نہیں ہیں، اور یہی پیغام پی ایم مودی نے پہنچایا۔‘‘ تاہم کھیڑا نے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو ہندوستان-امریکہ مشترکہ بیان میں اور نہ ہی وزارت خارجہ کی مودی-ٹرمپ ملاقات کے متعلق بیان میں اس مسئلے کا ذکر تھا۔جی ۷؍ اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے بارے میں وزارت خارجہ کی جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، کھیڑانے کہا کہ خلیج عمان میں امریکہ کی طرف سے تین ہندوستانی ملاحوں کے ’’سفاکانہ قتل‘‘ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایودھیا مہا پاپیوں کیلئے کروکشیتر ثابت ہوگا، اکھلیش کا حکمراں اتحاد کو انتباہ

 کھیڑانے مزید کہاکہ نہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سرکاری ریکارڈ میں ایرانی فریگیٹ آئیرس ڈینا پر حملے کا کوئی حوالہ نہیں تھااور پھر بھی، تھرور جی نے کسی طرح زوردار موقف، مضبوط جوابی کارروائی اور ناقابلِ سمجھوتہ سفارت کاری سن لی جو کبھی سرکاری ریکارڈ میں شامل نہیں ہوئی۔ شاید ہمارے اور باقی لوگوں کے عام انسانی حواس محدود ہیں۔’’ مہا مانو مودی‘‘ کے عقیدت مندوں کے لیے، وہ جتنا کم کہتے ہیں، وہ اتنا زیادہ سنتے ہیں۔‘‘کھیڑا نے کہا۔تاہم س تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے تھرور نے کہا کہ ’’ہندوستانی جانوں کی فکر سب کو متحد کرنی چاہیے، انہیں حیرت ہے کہ ان کے بیانات نے ایک متعصب سیاسی بحث کو جنم دیا۔ہندوستانی جانوں کی فکر ہمیں متحد کرنی چاہیے، تقسیم نہیں ۔‘‘  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK