Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانوی وزیراعظم پیر کو استعفیٰ کا اعلان کر سکتے ہیں: رپورٹ

Updated: June 21, 2026, 6:02 PM IST | London

ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمرپیر کو استعفیٰ کا اعلان کر سکتے ہیں، یہ پیش رفت برطانیہ کی قیادت کے استحکام پر بڑھتی ہوئی تشویش اور لیبر پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے داخلی دباؤ کے درمیان سامنے آئی ہے۔

British Prime Minister Keir Starmer. Photo: INN
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر۔ تصویر: آئی این این

’’  دی آبزرور‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پیر۲۲؍ جون کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کر سکتے ہیں اور انہوں نے اپنی روانگی کے لیے ایک ٹائم ٹیبل بھی طے کر لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسٹارمر نے کابینہ کے وزراء، مشیروں، عطیہ دہندگان اور ٹریڈ یونین لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وزیراعظم کے طور پر ان کا عہدہ مزید پائیدار نہیں رہا۔واضح رہے کہ یہ پیش رفت برطانیہ کی قیادت کے استحکام پر بڑھتی ہوئی تشویش اور لیبر پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے داخلی دباؤ کے درمیان سامنے آئی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسٹارمر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اپنی رہائش گاہ پر اپنی اہلیہ کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ لیبر پارٹی کے سینئر لیڈروں کو پیر تک ان کے مستقبل کے حوالے سے ایک واضح بیان کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگا: سویٹزرلینڈ میں مذاکرات سے قبل تہران کا بیان

خیال کیا جارہا ہے کہ برطانوی وزیراعظم پر دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب اینڈی برنہم نے میکرفیلڈ ضمنی انتخاب میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جس کے بعد لیبر پارٹی کے اندر ممکنہ قیادت کی تبدیلی پر قیاس آرائیاں تیز ہو گئیں۔ رپورٹس کے مطابق، متعدد لیبر ایم پی اسٹارمر سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی روانگی کے لیے ایک ٹائم ٹیبل طے کریں اور ممکنہ قیادت کی جنگ کے بجائے برنہم کو ہموار منتقلی کو یقینی بنائیں۔برنہم کے حامیوں نے اسٹارمر سے کہا ہے کہ وہ غور کریں اور کابینہ کے وزراء، ایم پی اور اپنے خاندان سے مشورہ کریں۔ دریں اثنا، برنہم اور ویس اسٹریٹنگ جو ایک اور ممکنہ امیدوار ہیں کی ٹیموں نے بڑی حد تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، جسے کچھ مبصرین وزیراعظم پر دباؤ بڑھانے سے گریز کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں جب کہ وہ اپنے اختیارات پر غور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فرانسیسی پولیس کا منشیات کی تلاش میں چھاپہ، پکاسو کی چوری شدہ پینٹنگ برآمد

بعد ازاں رپورٹس بتاتی ہیں کہ اسٹارمر نے حکومت کے اندر حمایت کی مضبوطی کا جائزہ لینے کے لیے اپنی کابینہ کے ارکان سے بھی مشاورت کی ہے۔ خیال ہے کہ بعض سینئر شخصیات نے انہیں استعفیٰ دینے کے لیے ٹائم ٹیبل طے کرنے پر غور کرنے کی ترغیب دی ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ منظر عام پر نہیں آیا۔ حالانکہ اس ماہ کے اوائل میں، اسٹارمر نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیں گے، ساتھ ہی بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں   کہا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے  دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ،’’مجھے واضح کرنے دیں کہ یہ ذاتی انا کا معاملہ نہیں ہے، یہ ضد کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ فرض کے ایک گہرے احساس کا معاملہ ہے۔ میں مشکل حالات کے باوجود اس ملک کی خدمت کے لیے منتخب ہوا تھا اور یہی میں کر رہا ہوں۔‘‘ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ان کی حکومت نے معیشت کو مستحکم کیا ہے، دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے اور عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کی ہے، انہوں نے مزید کہا، ’’ ہمیں انتخابات میں بہت برے نتائج ملے تھے،ٹھیک ہے، میں یہی کرنا چاہتا ہوں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے صورتحال کو بدلنا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK