Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میں پیدائش و اموات کے ساڑھے چار لاکھ ریکارڈ غائب

Updated: March 30, 2026, 10:42 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

میئر نارائن چودھری نے برہمی کا اظہار کیا، ۲؍ دن میں ڈیٹا بحال نہ ہوا تو سخت تادیبی کارروائی کا انتباہ۔

Long queues of citizens can be seen waiting for birth and death certificates. Photo: INN
پیدائش و اموات سرٹیفکیٹ کے لئے شہریوں کی طویل قطار دیکھی جا سکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کا شعبۂ پیدائش و اموات ان دنوں سنگین انتظامی بحران کا شکار ہے، جہاں مبینہ بدانتظامی اور اندرونی بے ضابطگیوں کے باعث تقریباً ساڑھے ۴؍ لاکھ شہریوں کا اہم ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف محکمہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ شہریوں کے لئے شدید مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں۔ میئر نارائن چودھری نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو انتباہ دیا ہے کہ ۲؍ دن کے اندر ڈیٹا بحال کیا جائے، بصورت دیگر ذمہ داروں کے خلاف معطلی سمیت سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ 
الزام ہے کہ پیدائش و اموات محکمہ کے رجسٹرار کے باضابطہ عہدے کو پس پشت ڈال کر سی ایم او سندیپ گاڈیکر نے اپنے قریبی کلرک رتن دیپ مورے کو غیر رسمی طور پر اہم اختیارات سونپ دئیے ہیں۔ اس اقدام کے باعث نہ صرف انتظامی ڈھانچہ کمزور ہوا بلکہ شفافیت کی جگہ مبینہ من مانی اور دلالی نے لے لی ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ پیدائش و اموات کا وہ ریکارڈ، جو ایک نجی سافٹ ویئر کمپنی کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا، اب میونسپل کارپوریشن کے پاس دستیاب نہیں ہے۔ 
بتایا جا رہا ہے کہ کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے کے بعد ڈیٹا کی منتقلی عمل میں نہیں آئی، جس کے باعث شہری بنیادی دستاویزات، خصوصاً پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹس حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: گیس سلنڈر کی شدید قلت سے مدارس کے ذمہ داران فکرمند

شہریوں کی شکایات کے مطابق وہ کئی دنوں سے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں، گھنٹوں طویل قطاروں میں کھڑے رہنے کے باوجود عملہ ’سرور ڈاؤن‘ کا جواز پیش کر کے انہیں لوٹا دیتا ہے، جس سے عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، ایک اور سنگین انکشاف یہ ہوا ہے کہ سی ایم او کی غیر موجودگی میں ان کے لاگ اِن آئی ڈی اور ون ٹائم پاس ورڈ کا استعمال کرتے ہوئے سیکڑوں سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے، جو نہ صرف غیر معمولی عمل ہے بلکہ سرکاری ڈیجیٹل سکیوریٹی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ افسر کی عدم موجودگی میں ان کی ڈیجیٹل شناخت کس کے حکم اور اختیار سے استعمال کی گئی۔ اسی طرح کلرک رتن دیپ مورے کو رجسٹرار جیسے حساس عہدے پر تعینات کئے جانے کو بھی قواعد کے منافی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ عہدہ قانونی تصدیق اور اہم ریکارڈ کی نگرانی سے براہ راست متعلق ہوتا ہے۔ 
انتظامیہ کا موقف 
الزامات کی تردید کرتے ہوئے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر سندیپ گاڈیکر نے انقلاب کو بتایا کہ پیدائش و اموات کا ڈیٹا غائب نہیں ہوا بلکہ ایس این ٹیک کمپنی نے معاہدہ ختم ہونے پر مکمل ڈیٹا آئی ٹی محکمہ کو منتقل کر دیا ہے، جو اس وقت نئے آر ٹی ایس سافٹ ویئر میں منتقل کیا جا رہا ہے، اسی وجہ سے عارضی تکنیکی مسائل پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے او ٹی پی اور لاگ اِن کے استعمال پر وضاحت دی کہ پرانے ڈیٹا کی اپڈیٹ کیلئے ان کی یوزر آئی ڈی استعمال ہو رہی ہے مگر تمام ویریفکیشن وہ خود کرتے ہیں اور چند دنوں میں نظام مکمل طور پر معمول پر آ جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK