Inquilab Logo Happiest Places to Work

کمال مولا مسجد معاملہ :ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں مسلم فریق نے چیلنج کیا

Updated: March 30, 2026, 11:06 AM IST | Bhopal

مسلم فریق نے اعتراض کیا گیا کہ انہیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ پر مکمل طور پر اعتراضات کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

Kamal Maula Masjid. Photo: INN
کمال مولا مسجد۔ تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولا مسجد-بھوج شالہ کا معاملہ ایک بار پھر عدالتی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ مسلم فریق نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجوع کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ۱۶؍ مارچ کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ اس درخواست پر یکم اپریل کو سماعت متوقع ہے، جسے اس طویل تنازع میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ متنازع مقام کے مذہبی تشخص کے تعین کے لئے ۲؍اپریل سے باضابطہ سماعت شروع کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے خود موقع کا معائنہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا، تاکہ زمینی حقائق کو براہ راست دیکھا جاسکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امیت شاہ کےخلاف ممتا بنرجی کی’’چارج شیٹ‘‘

تاہم مسلم فریق نے اس طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ پر مکمل طور پر اعتراضات کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کی بات سنے بغیر کارروائی کوآگے بڑھانا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ دوسری جانب ہائی کورٹ کے ججوں نے اس معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے حال ہی میں مقام کا معائنہ بھی کیا۔ اندور بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی دھار پہنچے اور تقریباً ۵۵؍منٹ تک کمال مولا مسجد-بھوج شالہ کمپلیکس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس معائنے کو کیس کی آئندہ سماعت میں اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے عدالت کو موقع کی حقیقی صورتحال کا اندازہ ہوا ہے۔ 
یہ تنازع کئی برسوں پر محیط ہے۔ ہندو فریق اس مقام کو ماں واگ دیوی یعنی سرسوتی کا مندر مانتا ہے، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولا مسجد کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی اختلاف کی بنیاد پر یہ معاملہ برسوں سے عدالتوں میں زیر سماعت ہے اور اب تک کوئی حتمی حل سامنے نہیں آ سکا۔ 
اب یکم اپریل اور ۲؍اپریل کی تاریخیں اس کیس کے لیے خاصی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ ایک طرف سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی تو دوسری طرف ہائی کورٹ میں باضابطہ کارروائی کا آغاز ہوگا۔ اتفاق سے۲؍ اپریل کو ہنومان جینتی بھی ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ کے لیے حالات کو قابو میں رکھنا ایک اہم ذمہ داری ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK