Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیس سلنڈر کی شدید قلت سے مدارس کے ذمہ دارانفکرمند

Updated: March 26, 2026, 2:07 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

طلبہ کی تعداد کی مناسبت سے ایک ایک مدرسے میں ماہانہ ۱۵؍تا ۱۷؍سلنڈر درکار ہوتے ہیں۔موجودہ حالات کے سبب کچھ مدرسے کے طلبہ کو وقتی طور پر مدرسہ آنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس سنگین مسئلے پر رابطہ ٔ مدارس اسلامیہ ممبئی او ر تھانے کی میٹنگ جلد ہوگی۔

Food Is Being Prepared In The Kitchen Of A Madrasa.Photo:INN
ایک مدرسے کے کچن میں کھانا تیار کیا جارہا ہے۔ تصویر:آئی این این
 امریکہ اسرائیل اورایران جنگ کے سبب پیدا شدہ بحران اور سلنڈر کی شدید قلت سے ذمہ داران مدارس فکرمند ہیں۔ سنیچر سے طلبہ کی آمد شروع ہوگی اور ۱۰؍ شوال سے تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائے گا،ایسے میں موجودہ حالات کے سبب بعض مدارس میں طلبہ کو کچھ دنوں کیلئے روک دیا گیاہے، حالات میں بہتری کے بعد انہیں مطلع کیا جائے گا اور انہیں مدرسہ بلوایا جائے گا۔ دیگر مدارس کے ذمہ داران اپنی جانب سے علاقے کی گیس ایجنسی اور ہیڈ آفس میں مقیم طلبہ کی تعداد لکھ کر درخواست دے رہے ہیں تاکہ حسبِ ضرورت انہیں سلنڈر دستیاب ہوسکے۔اس تعلق سے چند بڑے مدارس کےذمہ داران سے رابطہ قائم کیا گیا اور انہوں نے جو کچھ کہا اسے ذیل میں درج کیا جارہا ہے ۔
یہ سنگین مسئلہ ہے؟
مدرسہ معراج العلوم چیتا کیمپ کے ذمہ داران میں شامل مولانا محمدزاہد خان قاسمی نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ’’ جامعہ میں ۴۵۰؍ سے زائدمقیم طلبہ ہوتے ہیںاور ۳۵؍ سے زائد اساتذہ واسٹاف، ان کے لئے کھانا بنانے کی خاطر ماہانہ ۱۵؍ سلنڈر درکار ہوتا ہے ۔ موجودہ حالات میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے اورسبھی متاثر ہیں۔ اسی لئےگیس سپلائی کرنے والی ایجنسی کے ہیڈ آفس میںدرخواست دی گئی ہے اوریہ بتایا گیا ہے کہ ادارے میں طلبہ مقیم ہیںاور اس میںیتیم بچے بھی ہیں، اس لئے حسبِ سابق سلنڈر کی فراہمی کویقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ یکسوئی کے ساتھ علم حاصل کرسکیں۔‘‘  انہوں نےیہ بھی ہے کہ ’’ایمرجنسی حالات کیلئے کوئلے اور سگڑی کا نظم کیا گیا ہے تاکہ بحرانی حالات میں کھانے کاانتظام کیا جاسکے۔‘‘
جامعہ رحمانیہ کاندیولی کے مہتمم مولانا الطاف رحمانی کےمطابق ’’۱۰؍شوال سے طلبہ کی آمد ہوگی ، گیس ایجنسی کےذمہ دار کی جانب سے اب تک تعاون کیا گیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ طلبہ کومدرسہ آنے سے روکا نہیں گیا ہے، طلبہ کے جامعہ میںآنے کےبعد دیکھا جائے گا کہ موجودہ حالات میںبہتری آتی ہے یا سلنڈر کی سپلائی کا مسئلہ برقرار رہتا ہے۔ جس طرح کے حالات رہیںگے اسی حساب سے اگلا قدم اٹھایا جائے گا ۔ یہ صحیح ہے کہ یہ بڑا مسئلہ ہی نہیںبلکہ چیلنج بن گیا ہے۔‘‘ 
جامعہ عربیہ منہاج السنہ (مالونی ملاڈ)،کے ذمہ دار مولانانوشاد احمد صدیقی نے بھی ان ہی مسائل کاتذکرہ کیا اورجامعہ کے لیٹرہیڈ پر گیس ایجنسی کو لکھا گیا خط بھی فراہم کرایا۔ اس میںادارہ میںڈیڑھ سو سے زائدمقیم  طلبہ کا حوالہ دیتے ہوئے سلنڈر کی فراہمی کو یقینی بنانے کی درخواست دی گئی ہے ۔‘‘ مولانا کے مطابق ’’ گیس ایجنسی کی جانب سے ابھی تو مثبت رویہ اپنایاگیا ہےمگر بعد میںکیا ہوگا ، کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔‘‘
 
 
دارالعلوم حاجی آدم صدیق میںزیرتعلیم طلبہ کوروکا گیا
دارالعلوم حنفیہ رضویہ (قلابہ )اور دارالعلوم حاجی آدم صدیق (مدن پورہ ) ،جو دارالعلوم حنفیہ کے زیر اہتمام چلایا جاتا ہے، کے نائب ناظم قاری نیاز احمد قادری نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ’’ دونوں اداروں میں ۳۵۰؍ سے زائد طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ قلابہ میں توسلنڈر کی فراہمی کا ابھی مسئلہ نہیںہے مگر دارالعلوم حاجی آدم صدیق میںسلنڈر کی فراہمی کا مسئلہ ہے ۔ اس لئے یہاں زیرتعلیم طلبہ کو فوری طور پر مدرسہ آنے سے روکا گیا ہے ، ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ۱۰؍ پندرہ دن مزیدتوقف کریں، جس طرح کے حالات ہوں گے، انہیںمطلع کیا جائےگا،اس کے بعد وہ دارالعلوم آئیں تاکہ وہ حسبِ معمو ل یکسوئی کےساتھ حصولِ علم میںمنہمک رہ سکیں۔‘‘ 
 
 
مدارس کے ذمہ داران کی میٹنگ اورمشترکہ وفد 
رابطہ مدارس اسلامیہ ممبئی و تھانے کے ترجمان مولانا عبدالقدوس شاکر حکیمی کے مطابق اس مسئلے سے پورا ملک جوجھ رہا ہے، ایسے میں مدارس اس سے اچھوتے نہیں ہیں۔اسی لئے چند دن میں مدارس کے ذمہ داران کی ایک میٹنگ بلائی جائے گی اور ایک مشترکہ وفد گیس ایجنسی کے انچارج سے ملاقات کرے گا اور انہیں حالات سے آگاہ کرواکریہ درخواست کی جائے گی کہ وہ حسب ِ ضرورت سلنڈر کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ طلبہ کے لئے کھانے کا نظم کرنے میں کوئی مسئلہ نہ ہو اوران کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔‘‘ واضح رہے کہ جن چند مدارس کا نام کےساتھ تذکرہ کیا گیا ہے،اس کے علاوہ دیگر سیکڑوں مدارس کا بھی یہی مسئلہ ہےاوراس تعلق سے شدید فکر مندی بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK