حادثے کے بعد سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ان مزدوروں کے اہلِ خانہ اتنے غریب تھے کہ اپنے پیاروں کی لاشیں آبائی وطن لے جانے کے اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 11:23 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
حادثے کے بعد سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ان مزدوروں کے اہلِ خانہ اتنے غریب تھے کہ اپنے پیاروں کی لاشیں آبائی وطن لے جانے کے اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
کوہِ نور اپارٹمنٹ سانحہ نے نہ صرف۵؍ غریب مزدوروں کی جان لے لی بلکہ ان کے اہلِ خانہ کی بے بسی بھی سب کے سامنے ظاہر کردی۔ زندگی بھر دوسروں کے لئے عمارتیں تعمیر اور مرمت کرنے والے یہ مزدور موت کے بعد بھی اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے دوسروں کے سہارے کے محتاج ہو گئے۔
سانحہ میں اتر پردیش کےضلع گونڈہ سے تعلق رکھنے والے اشوک کمار پاسوان اور راکیش کمار پاسوان جبکہ بلرام پور ضلع سے تعلق رکھنے والے مکیش کمار پاسوان اور کرِس کمار پرجاپتی ہلاک ہوئے، جبکہ پانچویں مزدور رادھے شیام کا تعلق الٰہ آباد (پریاگ راج) سے تھا۔ یہ تمام مزدور عمارت کے کالموں کی مرمت کے کام میں مصروف تھے کہ اچانک پوری عمارت ان پر گرگئی اور وہ ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے۔
حادثے کے بعد سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ان مزدوروں کے اہلِ خانہ اتنے غریب تھے کہ اپنے پیاروں کی لاشیں آبائی وطن لے جانے کے اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ روزی روٹی کی تلاش میں سیکڑوں کلومیٹر دور آئے یہ مزدور خاموش لاشوں کی صورت میں اپنے گھروں کی راہ تک رہے تھے مگر ان کی آخری گھر واپسی بھی مالی مجبوریوں کے باعث دشوار بن گئی تھی۔
سماجوادی پارٹی کے ریاستی سیکریٹری ریاض اعظمی نے بتایا کہ جب یہ صورتحال سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر و رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی کے علم میں آئی تو انہوں نے فوری طور پر تمام انتظامات کرنے کی ہدایت دی۔ ایک لاکھ ۶۵؍ ہزار روپے کے خرچ سے ۳؍ ایمبولینسوں کا بندوبست کیا گیا اور جمعہ کی دیر رات پانچوں مزدوروں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کے لئے روانہ کر دی گئیں۔
اشوک کمار پاسوان اور راکیش کمار پاسوان کی لاشیں ایک ایمبولینس کے ذریعے گونڈہ ضلع روانہ کی گئیں، جبکہ مکیش کمار پاسوان اور کرِس کمار پرجاپتی کی لاشیں دوسری ایمبولینس کے ذریعے بلرام پور بھیجی گئیں۔ تیسری ایمبولینس کے ذریعے رادھے شیام کی لاش الٰہ آباد روانہ کی گئی۔